عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَارِمٍ الْحَافِظُ بِالْكُوفَةِ ثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْحَضْرَمِيُّ ثَنَا حَمْزَةُ بْنُ عَوْنٍ الْمَسْعُودِيُّ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ ثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَشَرِيكٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَلِيٍّ فَأُتِيَ بِرَأْسِ الزُّبَيْرِ وَمَعَهُ قَاتِلُهُ فَقَالَ عَلِيٌّ لِلْآذِنِ بَشِّرْ قَاتِلَ ابْنَ صَفِيَّةَ بِالنَّارِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ «لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ» هَذِهِ الْأَحَادِيثُ صَحِيحَةٌ عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٍّ وَإِنْ لَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ الْأَسَانِيدِ هذه أحاديث صحاح كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَلِيٍّ فَأُتِيَ بِرَأْسِ الزُّبَيْرِ وَمَعَهُ قَاتِلُهُ فَقَالَ عَلِيٌّ لِلْآذِنِ بَشِّرْ قَاتِلَ ابْنَ صَفِيَّةَ بِالنَّارِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ «لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ» هَذِهِ الْأَحَادِيثُ صَحِيحَةٌ عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٍّ وَإِنْ لَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ الْأَسَانِيدِ هذه أحاديث صحاح
انگریزی ترجمہ
Abu Bakr ibn Darim al-Hafiz narrated to us in Kufa, Abu Ja'far al-Hadrami narrated to us, Hamza ibn Awn al-Mas'udi narrated to us, Muhammad ibn al-Qasim al-Asadi narrated to us, Sufyan al-Thawri and Sharik narrated to us from Asim ibn Abi al-Najud, from Zirr ibn Hubaysh who said: I was sitting with Hadrat Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance) when the head of al-Zubayr was brought along with his killer. Hadrat Ali (may Allah ennoble his countenance) said to the doorkeeper: "Give tidings to the killer of the son of Safiyya of the Fire. I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stating: 'Every prophet has a disciple, and my disciple is al-Zubayr.'" These hadiths are authentic from the Commander of the Faithful, Ali, even though they were not narrated with these chains of transmission.
اردو ترجمہ
ابو بکر بن دارم حافظ نے ہمیں کوفہ میں بیان کیا، ابو جعفر حضرمی نے ہمیں بیان کیا، حمزہ بن عون مسعودی نے ہمیں بیان کیا، محمد بن القاسم اسدی نے ہمیں بیان کیا، سفیان ثوری اور شریک نے عاصم بن ابی النجود سے، زر بن حبیش سے روایت کیا، فرمایا: میں حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے پاس بیٹھا تھا جب حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سر ان کے قاتل کے ساتھ لایا گیا۔ حضرت علی کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے دربان سے فرمایا: صفیہ کے بیٹے کے قاتل کو جہنم کی خوشخبری دو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا: «ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔» یہ احادیث امیر المومنین علی سے صحیح ہیں اگرچہ ان اسناد سے مخرج نہیں۔
