عربی (اصل)
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَطَرٍ الْعَدْلُ الْمَأْمُونُ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَّارٍ الْهَاشِمِيُّ ثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَجْلَحِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ قَالَ مِنْجَابٌ وَسَمِعْتُ فَضْلَ بْنَ فَضَالَةَ يُحَدِّثُ بِهِ جَمِيعًا عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ قَالَ شَهِدْتُ عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ لَمَّا رَجَعَ الزُّبَيْرُ عَلَى دَابَّتِهِ يَشُقُّ الصُّفُوفَ فَعَرَضَ لَهُ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ مَا لَكَ؟ فَقَالَ ذَكَرَ لِي عَلِيٌّ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ «لَتُقَاتِلَنَّهُ وَأَنْتَ ظَالِمٌ لَهُ» فَلَا أُقَاتِلُهُ قَالَ وَلِلْقِتَالِ جِئْتَ؟ إِنَّمَا جِئْتَ لِتُصْلِحَ بَيْنَ النَّاسِ وَيُصْلِحُ اللَّهُ هَذَا الْأَمْرَ بِكَ قَالَ قَدْ حَلَفْتُ أَنْ لَا أُقَاتِلَ قَالَ فَأَعْتِقْ غُلَامَكَ جِرْجِسَ وَقِفْ حَتَّى تُصْلِحَ بَيْنَ النَّاسِ قَالَ فَأَعْتَقَ غُلَامَهُ جِرْجِسَ وَوَقَفَ فَاخْتَلَفَ أَمَرُ النَّاسِ فَذَهَبَ عَلَى فَرَسِهِ «وَقَدْ رُوِيَ إِقْرَارُ الزُّبَيْرِ لِعَلِيٍّ بِذَلِكَ مِنْ غَيْرِ هَذِهِ الْوُجُوهِ وَالرِّوَايَاتِ» شَهِدْتُ عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ لَمَّا رَجَعَ الزُّبَيْرُ عَلَى دَابَّتِهِ يَشُقُّ الصُّفُوفَ فَعَرَضَ لَهُ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ مَا لَكَ؟ فَقَالَ ذَكَرَ لِي عَلِيٌّ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ «لَتُقَاتِلَنَّهُ وَأَنْتَ ظَالِمٌ لَهُ» فَلَا أُقَاتِلُهُ قَالَ وَلِلْقِتَالِ جِئْتَ؟ إِنَّمَا جِئْتَ لِتُصْلِحَ بَيْنَ النَّاسِ وَيُصْلِحُ اللَّهُ هَذَا الْأَمْرَ بِكَ قَالَ قَدْ حَلَفْتُ أَنْ لَا أُقَاتِلَ قَالَ فَأَعْتِقْ غُلَامَكَ جِرْجِسَ وَقِفْ حَتَّى تُصْلِحَ بَيْنَ النَّاسِ قَالَ فَأَعْتَقَ غُلَامَهُ جِرْجِسَ وَوَقَفَ فَاخْتَلَفَ أَمَرُ النَّاسِ فَذَهَبَ عَلَى فَرَسِهِ «وَقَدْ رُوِيَ إِقْرَارُ الزُّبَيْرِ لِعَلِيٍّ بِذَلِكَ مِنْ غَيْرِ هَذِهِ الْوُجُوهِ وَالرِّوَايَاتِ»
انگریزی ترجمہ
Abu Amr Muhammad ibn Ja'far ibn Muhammad ibn Matar al-Adl al-Ma'mun narrated that to us from his original book, Abdullah ibn Muhammad ibn Sawwar al-Hashimi narrated to us, Minjab ibn al-Harith narrated to us, Abdullah ibn al-Ajlah narrated to us, my father narrated to me from Yazid al-Faqir; Minjab said: And I heard Fadl ibn Fadala narrating it altogether from Abu Harb ibn Abi al-Aswad al-Dili who said: I witnessed Hadrat Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance) and Hadrat al-Zubayr (may Allah be well pleased with him) when al-Zubayr returned on his mount, cutting through the ranks. His son Abdullah intercepted him and said: "What is the matter with you?" He said: "Ali reminded me of a hadith I heard from the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stating: 'You will surely fight him while you are wronging him.' So I will not fight him." He said: "Did you come for fighting? You only came to make peace between the people, and Allah will set this matter right through you." He said: "I have sworn an oath not to fight." He said: "Then free your slave Jirjis and stand until you make peace between the people." So he freed his slave Jirjis and stood. But the people's affairs became confused, so he departed on his horse.
اردو ترجمہ
ابو عمرو محمد بن جعفر بن محمد بن مطر عدل مامون نے اپنی اصل کتاب سے ہمیں بیان کیا، عبد اللہ بن محمد بن سوار ہاشمی نے ہمیں بیان کیا، منجاب بن الحارث نے ہمیں بیان کیا، عبد اللہ بن الاجلح نے ہمیں بیان کیا، میرے والد نے مجھے یزید فقیر سے بیان کیا؛ منجاب نے فرمایا: اور میں نے فضل بن فضالہ کو یہ بیان کرتے سنا سب نے ابو حرب بن ابی الاسود دیلی سے روایت کیا، فرمایا: میں حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حاضر تھا جب حضرت زبیر اپنی سواری پر صفیں چیرتے ہوئے واپس آ رہے تھے۔ ان کے بیٹے عبد اللہ نے راستہ روکا اور پوچھا: کیا بات ہے؟ فرمایا: علی نے مجھے ایک حدیث یاد دلائی جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی کہ آپ نے ارشاد فرمایا: «تم ضرور ان سے لڑو گے حالانکہ تم ان پر ظالم ہو گے۔» لہٰذا میں نہیں لڑوں گا۔ کہا: کیا آپ لڑنے آئے تھے؟ آپ تو لوگوں میں صلح کرانے آئے ہیں اور اللہ آپ کے ذریعے یہ معاملہ درست فرمائے گا۔ فرمایا: میں نے قسم کھائی ہے کہ نہیں لڑوں گا۔ کہا: تو اپنے غلام جرجیس کو آزاد کیجیے اور ٹھہریے تاکہ لوگوں میں صلح کرائیں۔ تو انہوں نے اپنے غلام جرجیس کو آزاد کیا اور ٹھہرے مگر لوگوں کا معاملہ بگڑ گیا تو اپنے گھوڑے پر چلے گئے۔
