عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ وَمُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ قَالُوا ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ثنا رِفَاعَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَمِّ أَبِيهِ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَعَطَسْتُ فَقُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ انْصَرَفَ فَقَالَ «مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ؟» فَقُلْتُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ «فَكَيْفَ قُلْتَ؟» قَالَ قُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدِ ابْتَدَرَهَا بَضْعَةٌ وَثَلَاثُونَ مَلَكًا أَيُّهُمْ يَصْعَدُ بِهَا» حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمَا كَتَبْنَاهُ إِلَّا عَنْهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِسكت عنه الذهبي في التلخيص عم ابيه معاذ بن رفاعه عن جده رافع بن مالك
انگریزی ترجمہ
Narrated from Hadrat Rafi' ibn Malik (may Allah be well pleased with him) who said: I was praying behind the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) when I sneezed and said: "All praise is due to Allah, abundant, pure, blessed praise in it and upon it, as our Lord loves and is pleased with." When the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) finished the prayer and turned, he stated: "Who was it that spoke during the prayer?" I said: "It was I, O Messenger of Allah." He stated: "What did you say?" I replied: "All praise is due to Allah, abundant, pure, blessed praise in it and upon it, as our Lord loves and is pleased with." The Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "By the One in Whose hand is my soul, more than thirty angels hastened to see which of them would ascend with it first."
اردو ترجمہ
حضرت رافع بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا کہ مجھے چھینک آئی تو میں نے کہا: اللہ کی حمد ہے، بہت زیادہ، پاکیزہ، برکت والی اس میں اور اس پر، جیسے ہمارا رب پسند فرماتا ہے اور راضی ہوتا ہے۔ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے اور متوجہ ہوئے تو ارشاد فرمایا: نماز میں بولنے والا کون تھا؟ میں نے عرض کیا: میں تھا، یا رسول اللہ۔ ارشاد فرمایا: تم نے کیا کہا؟ میں نے عرض کیا: الحمد للہ حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ مبارکا علیہ کما یحب ربنا ویرضی۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تیس سے زائد فرشتے اس کی طرف لپکے کہ کون اسے پہلے اوپر لے جائے۔
