عربی (اصل)
فَحَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ ثنا تَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ أَنَّ زَيْدًا حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ حَدَّثَهُ أَنَّ الْحَارِثَ الْأَشْعَرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ «إِنَّ اللَّهَ أَمَرَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا بِخَمْسٍ يَعْمَلُ بِهِنَّ وَأَمَرَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يَعْمَلُوا بِهِنَّ» فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ «إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُنِي بِخَمْسٍ» فَذَكَرَهُ بِطُولِهِ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى مَا أَصَّلْنَاهُ فِي الصَّحَابَةِ إِذَا لَمْ نَجِدْ لَهُمْ إِلَّا رَاوِيًا وَاحِدًا فَإِنَّ الْحَارِثَ الْأَشْعَرِيَّ صَحَابِيٌّ مَعْرُوفٌ سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ يَقُولُ سَمِعْتُ الدُّورِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ الْحَارِثُ الْأَشْعَرِيُّ لَهُ صُحْبَةٌ وَلِهَذِهِ اللَّفْظَةُ مِنَ الْحَدِيثِ شَاهِدٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ لم يخرجاه لأن الحارث تفرد عنه أبو سلام
انگریزی ترجمہ
Ali ibn Hamshaz narrated to us... from Hadrat al-Harith al-Ash'ari (may Allah be well pleased with him) that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Indeed, Allah commanded Yahya ibn Zakariyya with five things to act upon them and commanded the Children of Israel to act upon them." He mentioned the hadith and said in it: "Indeed, Allah commands me with five things." He mentioned it at length. This hadith is authentic according to the principle we have established regarding the Companions — when we find no more than one narrator from them. Al-Harith al-Ash'ari is a well-known Companion. Yahya ibn Ma'in said: Al-Harith al-Ash'ari has companionship (of the Prophet).
اردو ترجمہ
حضرت حارث اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "بے شک اللہ نے یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کو پانچ باتوں کا حکم دیا کہ ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ ان پر عمل کریں۔" پھر حدیث بیان کی اور اس میں فرمایا: "بے شک اللہ مجھے پانچ باتوں کا حکم دیتا ہے۔" پھر مکمل طور پر بیان کیا۔ یہ حدیث اس اصول کے مطابق صحیح ہے جو ہم نے صحابہ کے بارے میں قائم کیا ہے کہ جب ان سے صرف ایک راوی ملے۔ حارث اشعری ایک معروف صحابی ہیں۔ یحییٰ بن معین نے کہا: حارث اشعری کو صحبت حاصل ہے۔
