عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ ثنا إِسْحَاقُ أَنْبَأَ جَرِيرٌ عَنْ قَابُوسَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا فَرَغَ إِبْرَاهِيمُ مِنْ بِنَاءِ الْبَيْتِ قَالَ رَبِّ قَدْ فَرَغْتُ فَقَالَ «أَذِّنِ فِي النَّاسَ بِالْحَجِّ» قَالَ رَبِّ وَمَا يَبْلُغُ صَوْتِي؟ قَالَ «أَذِّنْ وَعَلَيَّ الْبَلَاغُ» قَالَ رَبِّ كَيْفَ أَقُولُ؟ قَالَ قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْحَجُّ حَجُّ الْبَيْتِ الْعَتِيقِ فَسَمِعَهُ مَنْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَلَا تَرَى أَنَّهُمْ يَجِيئُونَ مِنْ أَقْصَى الْأَرْضِ يُلَبُّونَ؟
انگریزی ترجمہ
Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) narrated: When Ibrahim (peace be upon him) completed building the House, he said: My Lord, I have finished. He said: 'Proclaim the Hajj to mankind.' He said: My Lord, how far can my voice reach? He said: 'Proclaim and upon Me is the conveyance.' He said: My Lord, what shall I say? He said: Say: O people, Hajj to the Ancient House has been prescribed upon you. Then all between the heaven and the earth heard it. Do you not see that they come from the farthest reaches of the earth, saying the Talbiyah?
اردو ترجمہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے: جب حضرت ابراہیم علیہ السلام بیت اللہ کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو عرض کیا: میرے رب! میں فارغ ہو گیا۔ فرمایا: 'لوگوں میں حج کا اعلان کرو۔' عرض کیا: میرے رب! میری آواز کہاں تک پہنچے گی؟ فرمایا: 'تم اعلان کرو اور پہنچانا ہمارے ذمے ہے۔' عرض کیا: میرے رب! کیا کہوں؟ فرمایا: کہو: اے لوگو! تم پر بیت العتیق کا حج فرض کیا گیا ہے۔ تو آسمان و زمین کے درمیان جو تھے سب نے سنا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ وہ زمین کے دور دراز حصوں سے لبیک کہتے آتے ہیں؟
