عربی (اصل)
أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْخُزَاعِيُّ بِمَكَّةَ ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي مَسَرَّةَ ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ أَخْبَرَنِي بَشِيرُ بْنُ أَبِي عَمْرٍو الْخَوْلَانِيُّ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ التُّجِيبِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ} [الأعراف 169] فَقَالَ ﷺ «يَكُونُ خَلْفٌ مِنْ بَعْدِ سِتِّينَ سَنَةً أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا ثُمَّ يَكُونُ خَلْفٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يَعْدُو تَرَاقِيَهُمْ وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةٌ مُؤْمِنٌ وَمُنَافِقٌ وَفَاجِرٌ» قَالَ بَشِيرٌ فَقُلْتُ لِلْوَلِيدِ مَا هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ؟ فَقَالَ الْمُنَافِقُ كَافِرٌ وَالْفَاجِرُ يَتَأَكَّلُ بِهِ وَالْمُؤْمِنُ يُؤْمِنُ بِهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ رُوَاتُهُ حِجَازِيُّونَ وَشَامِيُّونَ أَثْبَاتٌ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» صحيح
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be well pleased with him) narrated: I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) recite this verse: 'Then there came after them successors' (al-A'raf: 169), and then he stated: 'There will come successors after sixty years who will neglect the prayer and follow their desires, and they will meet destruction. Then there will come successors who recite the Qur'an but it will not go beyond their throats. The Qur'an is recited by three types: a believer, a hypocrite, and a wicked one.' Bashir said: I asked al-Walid: Who are these three? He said: The hypocrite is a disbeliever, the wicked one eats through it (uses it for worldly gain), and the believer truly believes in it. This hadith is sound; its narrators are Hijazi and Shami reliable narrators, and they did not record it.
اردو ترجمہ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا: میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو یہ آیت تلاوت کرتے سنا: 'پھر ان کے بعد نالائق جانشین آئے' (الاعراف: 169)۔ پھر ارشاد فرمایا: 'ساٹھ سال بعد ایسے جانشین آئیں گے جنہوں نے نماز ضائع کی اور خواہشات کے پیچھے چلے، وہ عنقریب تباہی سے ملیں گے۔ پھر ایسے جانشین آئیں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ قرآن تین طرح کے لوگ پڑھتے ہیں: مؤمن، منافق اور فاجر۔' بشیر نے کہا: میں نے ولید سے پوچھا: یہ تین کون ہیں؟ انہوں نے کہا: منافق کافر ہے، فاجر اس سے کھاتا ہے (دنیا کماتا ہے) اور مؤمن اس پر ایمان رکھتا ہے۔ یہ حدیث صحیح ہے، اس کے راوی حجازی اور شامی ثقات ہیں اور انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
