عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَارِئُ وَأَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ قَالَا ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَشَخَصَ بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ «هَذَا أَوَانُ يُخْتَلَسُ الْعِلْمُ مِنَ النَّاسِ حَتَّى لَا يَقْدِرُوا مِنْهُ عَلَى شَيْءٍ» قَالَ فَقَالَ زِيَادُ بْنُ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يُخْتَلَسُ مِنَّا وَقَدْ قَرَأْنَا الْقُرْآنَ فَوَاللَّهِ لَنَقْرَأَنَّهُ وَلَنُقْرِئَنَّهُ نِسَاءَنَا وَأَبْنَاءَنَا فَقَالَ «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا زِيَادُ إِنِّي كُنْتُ لَأَعُدُّكَ مِنْ فُقَهَاءِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ هَذَا التَّوْرَاةُ وَالْإِنْجِيلُ عِنْدَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى فَمَاذَا يُغْنِي عَنْهُمْ؟» قَالَ جُبَيْرٌ فَلَقِيتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ فَقُلْتُ لَهُ أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ أَخُوكَ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي قَالَ قَالَ صَدَقَ أَبُو الدَّرْدَاءِ إِنْ شِئْتَ لَأُحَدِّثَنَّكَ بِأَوَّلِ عِلْمٍ يُرْفَعُ مِنَ النَّاسِ الْخُشُوعُ يُوشِكُ أَنْ تَدْخُلَ مَسْجِدَ الْجَمَاعَةِ فَلَا تَرَى فِيهِ رَجُلًا خَاشِعًا «هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ مِنْ حَدِيثِ الْبَصْرِيِّينَ» وَفِيهِ شَاهِدٌ رَابِعٌ عَلَى صِحَّةِ الْحَدِيثِ وَهُوَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ «وَلَعَلَّ مُتَوَهِّمًا أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ نُفَيْرٍ رَوَاهُ مَرَّةً عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ وَمَرَّةً عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ فَيَصِيرُ بِهِ الْحَدِيثُ مُطَوَّلًا وَلَيْسَ كَذَلِكَ فَإِنَّ رُوَاةَ الْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا ثِقَاتٌ وَجُبَيْرُ بْنُ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ مِنْ أَكَابِرِ تَابِعِيِّ الشَّامِ فَإِذَا صَحَّ الْحَدِيثُ عَنْهُ الْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا فَقَدْ ظَهَرَ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنَ الصَّحَابِيَّيْنِ جَمِيعًا وَالدَّلِيلُ الْوَاضِحُ عَلَى مَا ذَكَرْتُهُ أَنَّ الْحَدِيثَ قَدْ رُوِيَ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ الَّذِي ذُكِرَ مُرَاجَعَتُهُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فِي الْحَدِيثَيْنِ» إسناده صحيح
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu al-Darda (may Allah be well pleased with him) narrated: We were with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) when he raised his gaze to the sky and stated: "This is the time when knowledge will be snatched away from people until they will not be able to retain any of it." Ziyad ibn Labid al-Ansari said: 'O Messenger of Allah, how can it be snatched from us when we have recited the Quran? By Allah, we will certainly recite it and teach it to our women and children!' He stated: "May your mother grieve for you, O Ziyad! I used to count you among the jurists of Madinah. Here are the Torah and the Gospel with the Jews and the Christians — what benefit did it give them?" Jubayr said: Then I met Ubadah ibn al-Samit and told him what Abu al-Darda had said. He said: 'Abu al-Darda spoke the truth. If you wish, I shall tell you the first knowledge to be raised from the people: khushu (humility). Soon you will enter a congregational mosque and not see a single man with humility in it.'
اردو ترجمہ
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے: ہم حبیبِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ آپ نے اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھائی پھر ارشاد فرمایا: 'یہ وہ وقت ہے جب لوگوں سے علم چھین لیا جائے گا یہاں تک کہ وہ اس میں سے کسی چیز پر قدرت نہ رکھیں گے۔' زیاد بن لبید انصاری نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم سے کیسے چھینا جائے گا جبکہ ہم نے قرآن پڑھا ہے؟ بخدا ہم اسے ضرور پڑھیں گے اور اپنی عورتوں اور بچوں کو پڑھائیں گے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: 'تیری ماں تجھ پر روئے اے زیاد! میں تمہیں اہلِ مدینہ کے فقہاء میں شمار کرتا تھا۔ یہ توراۃ اور انجیل یہود و نصاریٰ کے پاس ہیں، ان سے ان کو کیا فائدہ ہوا؟' جبیر کہتے ہیں: پھر میں عبادہ بن صامت سے ملا اور انہیں بتایا جو ابوالدرداء نے کہا۔ انہوں نے کہا: ابوالدرداء نے سچ کہا۔ اگر تم چاہو تو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ سب سے پہلے کون سا علم لوگوں سے اٹھایا جائے گا: خشوع۔ قریب ہے کہ تم جماعت کی مسجد میں داخل ہو اور اس میں ایک بھی خشوع والا آدمی نہ دیکھو۔
