عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ثنا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الشَّهِيدُ ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ثنا أَنُّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي ذُو مَالٍ كَثِيرٍ وَذُو أَهْلٍ وَوَلَدٍ فَكَيْفَ يَجِبُ لِي أَنْ أَصْنَعَ أَوْ أُنْفِقَ قَالَ «أَدِّ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ طُهْرَةً تُطَهِّرُكَ وَآتِ صِلَةَ الرَّحِمِ وَاعْرِفْ حَقَّ السَّائِلِ وَالْجَارِ وَالْمِسْكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ» قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقْلِلْ لِي قَالَ «فَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا» قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا أَدَّيْتُ الزَّكَاةَ إِلَى رَسُولِ رَسُولِ اللَّهِ فَقَدْ أَدَّيْتُهَا إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ؟ قَالَ «نَعَمْ إِذَا أَدَّيْتَهَا إِلَى رَسُولِهِ فَقَدْ أَدَّيْتَهَا وَلَكَ أَجْرُهَا وَعَلَى مَنْ بَدَّلَهَا إِثْمُهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ على شرط البخاري ومسلم
انگریزی ترجمہ
Hadrat Anas ibn Malik (may Allah be well pleased with him) narrated that a man said: O Messenger of Allah, I am a man of great wealth and have a family and children. How should I spend? The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Pay the obligatory zakat, for it is a purification that will purify you. Maintain ties of kinship and recognize the rights of the beggar, the neighbor, the destitute, and the wayfarer.' He submitted: O Messenger of Allah, reduce it for me. He stated: 'Then give the relative his due, and the destitute and the wayfarer, and do not squander wastefully.' He submitted: O Messenger of Allah, if I pay the zakat to the messenger of the Messenger of Allah, have I fulfilled it before Allah and His Messenger? He stated: 'Yes, if you pay it to his messenger, you have fulfilled it, and you shall have its reward, and the sin of altering it falls upon whoever alters it.' This hadith is sound upon the criteria of the two Shaykhs, and they did not record it.
اردو ترجمہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں بہت مال والا ہوں اور اہل و عیال والا ہوں، تو مجھے کیسے خرچ کرنا چاہیے؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 'فرض زکوٰۃ ادا کرو جو تمہارے لیے پاکیزگی ہے، صلہ رحمی کرو اور سائل، پڑوسی، مسکین اور مسافر کا حق پہچانو۔' اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے مختصر بتائیں۔ ارشاد فرمایا: 'قرابت دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو بھی اور فضول خرچی نہ کرو۔' اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب میں زکوٰۃ آپ کے قاصد کو ادا کر دوں تو کیا میں نے اللہ اور اس کے رسول کے سامنے ادا کر دی؟ ارشاد فرمایا: 'ہاں، جب تم اسے اس کے قاصد کو ادا کر دو تو تم نے ادا کر دی اور تمہیں اس کا اجر ملے گا اور جو اسے بدل دے اس پر اس کا گناہ ہے۔' یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
