عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُ��َمَّدُ بْنُ عَبْدِ الصَّفَّارُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَرْتِيُّ ثنا أَبُو نُعَيْمٍ وَأَبُو حُذَيْفَةَ قَالَا ثنا سُفْيَانُ وَأَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ثنا وَكِيعٌ ثنا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْتَغْفِرُ لِأَبَوَيْهِ وَهُمَا مُشْرِكَانِ فَقُلْتُ لَا تَسْتَغْفِرْ لِأَبَوَيْكَ وَهُمَا مُشْرِكَانِ فَقَالَ أَلَيْسَ قَدِ اسْتَغْفَرَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ وَهُوَ مُشْرِكٌ؟ فَذَكَرْتُهُ لِلنَّبِيِّ ﷺ فَنَزَلَتْ {مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ} [التوبة 114]
انگریزی ترجمہ
Hadrat Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance) narrated: I heard a man seeking forgiveness for his parents while they were polytheists. I said: Do not seek forgiveness for your parents while they are polytheists. He replied: Did not Ibrahim seek forgiveness for his father while he was a polytheist? So I mentioned this to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), and the verse was revealed: 'It is not for the Prophet and those who believe to seek forgiveness for the polytheists, even if they are relatives, after it has become clear to them that they are companions of the Hellfire. And the seeking of forgiveness of Ibrahim for his father was only because of a promise he had made to him. But when it became clear to him that he was an enemy to Allah, he dissociated from him. Indeed, Ibrahim was forbearing, grieving, and tender-hearted' (al-Tawbah: 113-114).
اردو ترجمہ
حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے مروی ہے کہ میں نے ایک شخص کو سنا جو اپنے والدین کے لیے استغفار کر رہا تھا حالانکہ وہ مشرک تھے۔ میں نے کہا: اپنے والدین کے لیے استغفار نہ کرو جبکہ وہ مشرک ہیں۔ اس نے کہا: کیا ابراہیم نے اپنے باپ کے لیے استغفار نہیں کیا حالانکہ وہ مشرک تھا؟ پس میں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کی تو یہ آیت نازل ہوئی: 'نبی اور مومنوں کو زیبا نہیں کہ مشرکوں کے لیے مغفرت مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں، اس کے بعد کہ ان پر ظاہر ہو گیا کہ وہ جہنمی ہیں۔ اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے مغفرت مانگنا تو صرف ایک وعدے کی وجہ سے تھا جو انہوں نے ان سے کیا تھا، پھر جب ان پر ظاہر ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہو گئے۔ بے شک ابراہیم بہت نرم دل، حلیم تھے' (التوبۃ: 113-114)۔
