عربی (اصل)
حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ عَنْ زَيْدِ بْ��ِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ خَيْثَمَةَ قَالَ كَانَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فِي نَفَرٍ فَذَكَرُوا عَلِيًّا فَشَتَمُوهُ فَقَالَ سَعْدٌ مَهْلًا عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَإِنَّا أَصَبْنَا دُنْيَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَأَنْزَلَ اللَّهُ ﷻ {لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ} [الأنفال 68] فَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِ اللَّهِ سَبَقَتْ لَنَا فَقَالَ بَعْضُهُمْ فَوَاللَّهِ إِنَّهُ كَانَ يُبْغِضُكَ وَيُسَمِّيكَ الْأَخْنَسَ فَضَحِكَ سَعْدٌ حَتَّى اسْتَعْلَاهُ الضَّحِكُ ثُمَّ قَالَ أَلَيْسَ قَدْ يَجِدُ الْمَرْءُ عَلَى أَخِيهِ فِي الْأَمْرِ يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ ثُمَّ لَا يَبْلُغُ ذَلِكَ أَمَانَتَهُ وَذَكَرَ كَلِمَةً أُخْرَى «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» على شرط البخاري ومسلم
انگریزی ترجمہ
Khaythamah narrated: Hadrat Sa'd ibn Abi Waqqas (may Allah be well pleased with him) was with a group of people when they mentioned Hadrat Ali (may Allah ennoble his countenance) and spoke ill of him. Sa'd said: Stop speaking about the companions of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! We gained worldly wealth with the Messenger of Allah, and Allah Almighty revealed {Were it not for a decree from Allah that preceded, you would have been touched for what you took by a great punishment} [al-Anfal 68]. I hope that it is a mercy from Allah that preceded for us. Some of them said: By Allah, he (Ali) used to dislike you and call you al-Akhnas. Sa'd laughed until laughter overcame him, then said: Does not a man sometimes have something against his brother because of a matter between them, yet that does not affect his trustworthiness? And he mentioned another word. This hadith is authentic according to the criteria of both al-Bukhari and Muslim, though they did not record it.
اردو ترجمہ
خیثمہ سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کچھ لوگوں کے ساتھ تھے جب انہوں نے حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کا ذکر کیا اور ان کی برائی کی۔ حضرت سعد نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کے بارے میں رک جاؤ! ہم نے رسول اللہ کے ساتھ رہ کر دنیا حاصل کی اور اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا {اگر اللہ کا پہلے سے لکھا ہوا فیصلہ نہ ہوتا تو تم نے جو لیا اس کی وجہ سے تمہیں بڑا عذاب چھوتا} [الانفال 68]۔ مجھے امید ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہمارے لیے سبقت کر جانے والی رحمت ہے۔ کسی نے کہا: اللہ کی قسم! وہ (علی) تم سے ناراض رہتے تھے اور تمہیں اخنس کہتے تھے۔ حضرت سعد ہنسے یہاں تک کہ ہنسی غالب آ گئی، پھر فرمایا: کیا آدمی اپنے بھائی پر کسی معاملے کی وجہ سے ناراض نہیں ہوتا جو ان کے درمیان ہو، لیکن یہ اس کی امانت کو متاثر نہیں کرتا؟ اور ایک اور بات ذکر کی۔ یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے مگر انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
