عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنْبَأَ جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَهُوَ يَرْتَجِزُ بِالْإِبِلِ وَهُوَ يَقُولُ «وَهُنَّ يَمْشِينَ بِنَا هَمِيسًا» قَالَ قُلْتُ أَتَرْفُثُ وَأَنْتَ مُحْرِمٌ؟ قَالَ «إِنَّمَا الرَّفَثُ مَا رُوجِعَ بِهِ النِّسَاءُ»
انگریزی ترجمہ
Abu al-Aliyah said: I was walking with Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with him) while he was in the state of Ihram, and he was chanting poetry while driving the camels. I asked: 'Are you engaging in rafath (obscene speech) while you are in Ihram?' He said: 'Rafath (in the context of Hajj) is only with women.'
اردو ترجمہ
ابو العالیہ کہتے ہیں: میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ چل رہا تھا اور وہ احرام میں تھے اور اونٹوں کو ہانکتے ہوئے رجز پڑھ رہے تھے۔ میں نے پوچھا: آپ احرام میں ہوتے ہوئے رفث (فحش بات) کر رہے ہیں؟ فرمایا: رفث (حج کے تناظر میں) صرف عورتوں سے متعلق ہے۔
