عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنْبَأَ جَرِيرٌ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ «مِنْ أَيْنَ جِئْتَ؟» قَالَ مِنَ الْعِرَاقِ قَالَ «مِنْ أَيِّهِمْ؟» قَالَ مِنَ الْكُوفَةِ قَالَ «فَمَا الْخَبَرُ؟» قَالَ تَرَكْتُهُمْ وَهُمْ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ عَلِيًّا خَارِجٌ عَلَيْهِمْ فَقَالَ «مَا تَقُولُ لَا أَبَا لَكَ لَوْ شَعَرْنَا ذَلِكَ مَا أَنْكَحْنَا نِسَاءَهُ وَلَا قَسَمْنَا مِيرَاثَهُ» ثُمَّ قَالَ أَنَا سَأُحَدِّثُكَ عَنْ ذَلِكَ إِنَّ الشَّيَاطِينَ كَانُوا يَسْتَرِقُونَ السَّمْعَ وَكَانَ أَحَدُهُمْ يَجِيءُ بِكَلِمَةِ حَقٍّ قَدْ سَمِعَهَا النَّاسُ فَيَكْذِبُ مَعَهَا سَبْعِينَ كِذْبَةً فَيُشْرِبَهَا قُلُوبَ النَّاسِ فَأَطْلَعَ اللَّهُ عَلَى ذَلِكَ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ فَأَخَذَهَا فَدَفَنَهَا تَحْتَ الْكُرْسِيِّ فَلَمَّا مَاتَ سُلَيْمَانُ قَامَ شَيْطَانٌ بِالطَّرِيقِ فَقَالَ أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى كَنْزِ سُلَيْمَانَ الَّذِي لَا كَنْزَ لِأَحَدٍ مِثْلُ كَنْزِهِ الْمُمْتَنِعِ؟ قَالُوا نَعَمْ فَأَخْرَجُوهُ فَإِذَا هُوَ سِحْرٌ فَتَنَاسَخَتْهَا الْأُمَمُ فَبَقَايَاهَا مِمَّا يَتَحَدَّثُ بِهِ أَهْلُ الْعِرَاقِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عُذْرَ سُلَيْمَانَ فَقَالَ {وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُوا الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا} [البقرة 102] الْآَيَةُ
انگریزی ترجمہ
Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with him) was sitting when a man came to him. He asked: 'Where did you come from?' He said: 'From Iraq.' He asked: 'From which (city)?' He said: 'From Kufa.' He asked: 'What is the news?' He said: 'I left them while they were talking that Ali is coming out to them.' He said: 'What are you saying, may you have no father! If we had detected that from him, we would not have married his daughters nor would we have lived with him. He was one who was commanded by the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). Verily the Messenger of Allah did not leave anyone (after his passing) except that he would return to be judged on the Day of Judgment.'
اردو ترجمہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا۔ پوچھا: کہاں سے آئے ہو؟ کہا: عراق سے۔ پوچھا: کس شہر سے؟ کہا: کوفہ سے۔ پوچھا: کیا خبر ہے؟ کہا: میں نے انہیں اس حال میں چھوڑا کہ وہ بات کر رہے تھے کہ علی ان کی طرف آنے والے ہیں۔ فرمایا: تم کیا کہتے ہو! اگر ہمیں اس کا پتہ ہوتا تو ہم ان کی بیٹیوں سے شادی نہ کرتے اور نہ ان کے ساتھ رہتے۔ وہ تو ایسے شخص تھے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا۔ بے شک رسول اللہ نے کسی کو نہیں چھوڑا مگر قیامت کے دن حساب کے لیے حاضر ہونا ہوگا۔
