عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ وَالْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ الشَّعْرَانِيُّ قَالَا ثنا أَبُو صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتَبُ اللَّيْثِ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عِيسَى الْقُرَشِيِّ ثُمَّ الْأَسَدِيِّ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَتْ جَارِيَةٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَتْ إِنَّ سَيِّدِي اتَّهَمَنِي فَأَقْعَدَنِي عَلَى النَّارِ حَتَّى احْتَرَقَ فَرْجِي فَقَالَ لَهَا عُمَرُ هَلْ رَأَى ذَلِكَ عَلَيْكِ؟ قَالَتْ لَا قَالَ فَهَلِ اعْتَرَفْتِ لَهُ بِشَيْءٍ؟ قَالَتْ لَا فَقَالَ عُمَرُ عَلَيَّ بِهِ فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ الرَّجُلَ قَالَ أَتُعَذِّبُ بِعَذَابِ اللَّهِ؟ قَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اتَّهَمْتُهَا فِي نَفْسِي قَالَ رَأَيْتَ ذَلِكَ عَلَيْهَا؟ قَالَ الرَّجُلُ لَا قَالَ فَاعْتَرَفَتْ بِهِ؟ قَالَ لَا قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ لَمْ أَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ «لَا يُقَادُ مَمْلُوكٌ مِنْ مَالِكِهِ وَلَا وَالِدٌ مِنْ وَلَدِهِ» لَأَقَدْتُهَا مِنْكَ فَبَرَّزَهُ وَضَرَبَهُ مِائَةَ سَوْطٍ وَقَالَ لِلْجَارِيَةِ اذْهَبِي فَأَنْتِ حُرَّةٌ لِوَجْهِ اللَّهِ أَنْتِ مَوْلَاةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ أَبُو صَالِحٍ قَالَ اللَّيْثُ «وَهَذَا الْقَوْلُ مَعْمُولٌ بِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بل عمر بن عيسى منكر الحديث
انگریزی ترجمہ
Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) narrated: A slave girl came to Hadrat Umar ibn al-Khattab (may Allah be well pleased with him) and said: 'My master suspected me and made me sit on fire until my private parts were burned.' Umar asked her: 'Did he see you do that?' She said: 'No.' He asked: 'Did you confess anything to him?' She said: 'No.' Umar called for the man and when he came, said: 'Do you punish with the punishment of Allah?' The man said: 'I suspected her.' Umar asked: 'Did you see it?' He said: 'No.' He asked: 'Did she confess?' He said: 'No.' Umar said: 'By Him in Whose Hand is my soul, had I not heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) say: A slave is not to be subjected to retaliation from his master, nor a father from his child—I would have imposed retaliation on you for her.' Then he had him taken out and flogged a hundred lashes, and said to the slave girl: 'Go, you are free for the sake of Allah; you are a freed woman of Allah and His Messenger.'
اردو ترجمہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے: ایک لونڈی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئی اور عرض کیا: میرے مالک نے مجھ پر تہمت لگائی اور مجھے آگ پر بٹھایا یہاں تک کہ میری شرمگاہ جل گئی۔ حضرت عمر نے پوچھا: کیا اُس نے تجھ سے وہ کام دیکھا؟ کہا: نہیں۔ پوچھا: کیا تو نے اُس کے سامنے اعتراف کیا؟ کہا: نہیں۔ حضرت عمر نے اُس شخص کو بلایا اور پوچھا: تو اللہ کے عذاب سے عذاب دیتا ہے؟ اُس نے کہا: مجھے شبہ ہوا۔ پوچھا: تو نے دیکھا؟ کہا: نہیں۔ پوچھا: اُس نے اعتراف کیا؟ کہا: نہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا: اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے نہ سنا ہوتا: غلام سے مالک کا قصاص نہیں اور نہ بیٹے سے والد کا — تو میں تجھ سے اِس کا قصاص لیتا۔ پھر اُسے لے جا کر سو کوڑے مارے اور لونڈی سے فرمایا: جا! تو اللہ کے واسطے آزاد ہے، تو اللہ اور اُس کے رسول کی آزاد کردہ ہے۔
