عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ قَالَا ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ خَطَبَ أُمَّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ «يَا أَبَا طَلْحَةَ أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنَّ إِلَهَكَ الَّذِي نَعْبُدُ خَشَبَةٌ نَبَتَتْ مِنَ الْأَرْضِ نَجَرَهَا حَبَشِيُّ بَنِي فُلَانٍ إِنْ أَنْتَ أَسْلَمْتَ لَمْ أَرِدْ مِنْكَ مِنَ الصَّدَاقِ غَيْرَهُ» قَالَ حَتَّى أَنْظُرَ فِي أَمْرِي قَالَ فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَالَتْ «يَا أَنَسُ زَوِّجْ أَبَا طَلْحَةَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ على شرط مسلم
انگریزی ترجمہ
Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) narrated that Abu Talha proposed marriage to Umm Sulaym. She said: 'O Abu Talha, do you not know that your god whom we worship is a piece of wood that grew from the earth, carved by an Abyssinian slave of such-and-such tribe? If you accept Islam, I shall not ask you for any mahr other than that.' He said: 'Let me consider my matter.' He went away and then came back and said: 'I bear witness that there is no god but Allah and I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah.' She said: 'O Anas, give Abu Talha in marriage.' This hadith is authentic according to the condition of Muslim, though the two Shaykhs did not record it. It has a supporting witness authentic according to the conditions of the two Shaykhs.
اردو ترجمہ
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ابو طلحہ نے ام سلیم کو نکاح کا پیغام بھیجا۔ انہوں نے کہا: اے ابو طلحہ! کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارا خدا جسے ہم پوجتے ہیں زمین سے اگا ہوا لکڑی کا ٹکڑا ہے جسے فلاں قبیلے کے حبشی نے تراشا ہے؟ اگر تم اسلام قبول کر لو تو میں تم سے اس کے سوا کوئی مہر نہیں مانگوں گی۔ انہوں نے کہا: مجھے سوچنے دو۔ وہ گئے پھر واپس آئے اور کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ انہوں نے کہا: اے انس! ابو طلحہ کا نکاح کر دو۔ یہ حدیث مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ اس کی شیخین کی شرط پر ایک صحیح شاہد روایت بھی موجود ہے۔
