عربی (اصل)
حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مَنْصُورٍ ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ ثنا كُرْدُوسُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو الْحَسَنِ الْقَافْلَانِيُّ ثنا مُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَامَ عَلَى مِنْبَرِهِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ فَقَالَ أَلَا لَا تُغَالُوا فِي صَدَقَاتِ النِّسَاءِ فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا أَوْ تَقْوَى عِنْدَ اللَّهِ كَانَ أَوْلَاكُمْ بِهَا نَبِيُّكُمْ ﷺ «مَا زِيدَتِ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ وَلَا بَنَاتِهِ عَلَى اثْنَتَيْ عَشَرَةَ أُوقِيَّةً وَذَلِكَ أَرْبَعُ مِائَةِ دِرْهَمٍ وَثَمَانُونَ دِرْهَمًا الْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا» فَقَدْ تَوَاتَرَتِ الْأَسَانِيدُ الصَّحِيحَةُ بِصِحَّةِ خُطْبَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَهَذَا الْبَابُ لِي مَجْمُوعٌ فِي جُزْءٍ كَبِيرٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ أَلَا لَا تُغَالُوا فِي صَدَقَاتِ النِّسَاءِ فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا أَوْ تَقْوَى عِنْدَ اللَّهِ كَانَ أَوْلَاكُمْ بِهَا نَبِيُّكُمْ ﷺ «مَا زِيدَتِ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ وَلَا بَنَاتِهِ عَلَى اثْنَتَيْ عَشَرَةَ أُوقِيَّةً وَذَلِكَ أَرْبَعُ مِائَةِ دِرْهَمٍ وَثَمَانُونَ دِرْهَمًا الْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا» فَقَدْ تَوَاتَرَتِ الْأَسَانِيدُ الصَّحِيحَةُ بِصِحَّةِ خُطْبَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَهَذَا الْبَابُ لِي مَجْمُوعٌ فِي جُزْءٍ كَبِيرٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاه��
انگریزی ترجمہ
Sa'id ibn al-Musayyib narrated that Hadrat Umar ibn al-Khattab (may Allah be well pleased with him) stood on his pulpit, praised Allah and extolled Him, then said: 'Beware! Do not be excessive in the mahr of women. For if it were an honour in this world or piety before Allah, the most deserving of you would have been your Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). None of his wives or daughters received a mahr of more than twelve uqiyya — that is four hundred and eighty dirhams, the uqiyya being forty dirhams.' Authentic chains have reached the level of tawatur confirming the soundness of the sermon of the Commander of the Faithful Umar ibn al-Khattab. Al-Hakim said: I have compiled this topic in a large volume, and the two Shaykhs did not record it.
اردو ترجمہ
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے منبر پر کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: خبردار! عورتوں کے مہر میں غلو نہ کرو۔ اگر یہ دنیا میں عزت ہوتی یا اللہ کے نزدیک تقویٰ ہوتا تو تم میں سب سے زیادہ مستحق تمہارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہوتے۔ آپ کی کسی زوجہ مطہرہ اور نہ کسی صاحبزادی کو بارہ اوقیے سے زیادہ مہر دیا گیا — یعنی چار سو اسّی درہم، ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔ امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب کے خطبے کی صحت پر صحیح اسانید تواتر کی حد تک پہنچ گئی ہیں۔ حاکم نے فرمایا: یہ باب میرے پاس ایک بڑی جلد میں مجموع ہے اور شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔
