عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَزْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ «يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ زَمَانٌ يُغَرْبَلُ النَّاسُ غَرْبَلَةً وَيَبْقَى حُثَالَةٌ مِنَ النَّاسِ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ وَاخْتَلَفُوا فَكَانُوا هَكَذَا» وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ قَالُوا فَكَيْفَ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ «تَأْخُذُونَ مَا تَعْرِفُونَ وَتَذَرُونَ مَا تُنْكِرُونَ وَتُقْبِلُونَ عَلَى أَمْرِ خَاصَّتِكُمْ وَتَدَعُونَ أَمْرَ عَامَّتِكُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِعلى شرط البخاري ومسلم
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abdullah ibn Amr ibn al-As (may Allah be well pleased with them both) narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'A time will soon come when people will be sifted through a sieve, and there will remain the dregs of people whose covenants and trusts will be confused, and they will differ and be like this' — and he interlocked his fingers. They submitted: 'What should we do, O Messenger of Allah?' He stated: 'Take what you recognize as good, leave what you disbelieve, attend to your own affairs, and leave the affairs of the masses.' This hadith is authentic according to the conditions of the two Shaykhs, though they did not record it with this wording.
اردو ترجمہ
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب ایک زمانہ آئے گا جب لوگ چھلنی سے چھانے جائیں گے اور ان میں حثالہ (نکمے) لوگ بچیں گے جن کے عہد و پیمان اور امانتیں خراب ہو چکی ہوں گی اور وہ اختلاف میں پڑ جائیں گے اور ایسے ہو جائیں گے — اور آپ نے اپنی انگلیاں ملائیں۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم کیا کریں؟ فرمایا: جو معروف جانو وہ لو، جو ناپسند ہو اسے چھوڑو، اپنے خاص معاملات پر توجہ دو اور عام لوگوں کے معاملات چھوڑ دو۔ یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق سے نقل نہیں کیا۔
