عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ثنا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ عَنْ أَبِي حَمَّادٍ الْحَنَفِيِّ عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ فَقَدَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ حَمْزَةَ حِينَ فَاءَ النَّاسُ مِنَ الْقِتَالِ فَقَالَ رَجُلٌ رَأَيْتُهُ عِنْدَ تِلْكَ الشَّجَرَاتِ وَهُوَ يَقُولُ أَنَا أَسَدُ اللَّهِ وَأَسَدُ رَسُولِهِ اللَّهُمَّ أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا جَاءَ بِهِ هَؤُلَاءِ أَبُو سُفْيَانَ وَأَصْحَابُهُ وَاعْتَذِرُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلَاءِ بِانْهِزَامِهِمْ فَحَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ نَحْوَهُ فَلَمَّا رَأَى جَنْبَهُ بَكَى وَلَمَّا رَأَى مَا مُثِّلَ بِهِ شَهَقَ ثُمَّ قَالَ أَلَا كَفَنٌ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَرَمَى بِثَوْبٍ عَلَيْهِ ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَرَمَى بِثَوْبٍ عَلَيْهِ فَقَالَ يَا جَابِرُ هَذَا الثَّوْبُ لِأَبِيكَ وَهَذَا لِعَمِّي حَمْزَةُ ثُمَّ جِيءَ بِحَمْزَةَ فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ يُجَاءُ بِالشُّهَدَاءِ فَتُوضَعُ إِلَى جَانِبِ حَمْزَةَ فَيُصَلِّي ثُمَّ تَرْفَعُ وَيَتْرُكُ حَمْزَةَ حَتَّى صَلَّى عَلَى الشُّهَدَاءِ كُلِّهِمْ قَالَ فَرَجَعْتُ وَأَنَا مُثْقَلٌ قَدْ تَرَكَ أَبِي عَلَيَّ دَيْنًا وَعِيَالًا فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ اللَّيْلِ أَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ «يَا جَابِرُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَحْيَى أَبَاكَ وَكَلَّمَهُ كَلَامًا» قُلْتُ وَكَلَّمَهُ كَلَامًا؟ قَالَ قَالَ لَهُ تَمَنَّ فَقَالَ أَتَمَنَّى أَنْ تَرُدَّ رُوحِي وَتُنْشِئَ خَلْقِي كَمَا كَانَ وَتُرْجِعَنِي إِلَى نَبِيِّكَ فَأُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى قَالَ أَنِّي قَضَيْتُ أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ قَالَ وَقَالَ ﷺ «سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَمْزَةُ» صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ أبو حماد هو المفضل بن صدقة قال النسائي متروك
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abd al-Rahman ibn Awf (may Allah be well pleased with him) narrated: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) conquered Makkah, then proceeded to al-Ta'if and besieged them for seven or eight days. Then he departed at dawn or evening, then stopped, then marched at midday. Then he stated: 'O people, I am going ahead of you, and I enjoin upon you good treatment of my household. Your meeting place is the Pond [al-Hawd]. By the One in Whose hand is my soul, you shall certainly establish the prayer and pay the zakat, or I shall send against you a man from me—or like myself—who shall strike the necks of their fighters and take their offspring captive.' The people thought he meant Abu Bakr or Umar, but he took the hand of Hadrat Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance) and said: 'This is the one, this is the one.' This hadith has a sound chain of narration, though they did not record it.
اردو ترجمہ
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ فتح کیا، پھر طائف کی طرف چلے اور سات یا آٹھ دن محاصرہ کیا۔ پھر صبح یا شام کو روانہ ہوئے، پھر رکے، پھر دوپہر کو چلے۔ پھر ارشاد فرمایا: اے لوگو! میں تمہارے آگے جا رہا ہوں اور تمہیں اپنے اہلِ بیت کے ساتھ اچھے سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔ تمہاری ملاقات کی جگہ حوض ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم ضرور نماز قائم کرو گے اور زکوٰۃ دو گے، ورنہ میں تم پر ایک ایسا شخص بھیجوں گا جو مجھ سے ہے — یا میری طرح — جو ان کے مقاتلین کی گردنیں مارے گا اور ان کی اولاد کو قید کرے گا۔ لوگوں نے خیال کیا کہ آپ کی مراد حضرت ابو بکر یا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہیں، لیکن آپ نے حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: یہ ہے، یہ ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن انہوں نے اسے نقل نہیں کیا۔
