عربی (اصل)
حَدَّثَنَا الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً فِي رَجَبٍ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَتِسْعِينَ وَثَلَاثِ مِائَةٍ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ثنا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعَتِّبٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ مَاذَا رَدَّ إِلَيْكَ رَبُّكَ فِي الشَّفَاعَةِ؟ فَقَالَ «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَوَّلُ مَنْ يَسْأَلُنِي عَنْ ذَلِكَ لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الْعِلْمِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَمَا يُهِمُّنِي مِنَ انْقِصَافِهِمْ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ أَهَمُّ عِنْدِي مِنْ تَمَامِ شَفَاعَتِي وَشَفَاعَتِي لِمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا يُصَدِّقُ قَلْبُهُ لِسَانَهُ وَلِسَانُهُ قَلْبَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ فَإِنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ مُعَتِّبٍ مِصْرِيٌّ مِنَ التَّابِعِينَ وَقَدْ أَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِكَ الْحَدِيثَ بِغَيْرِ هَذَا اللَّفْظِ وَالْمَعْنَى قَرِيبٌ مِنْهُ صحيح الإسناد
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Hurairah (may Allah be well pleased with him) narrated: I asked the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), 'What did your Lord respond to you regarding intercession?' He stated: 'By the One in Whose Hand is my soul, I thought you would be the first to ask me about this, because of the eagerness for knowledge I saw in you. By the One in Whose Hand is my soul, what concerns me about their crowding at the gate of Paradise is more important to me than the completion of my intercession. And my intercession is for whoever testifies that there is no god but Allah sincerely, his heart confirming his tongue and his tongue confirming his heart.'
اردو ترجمہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حبیبِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: آپ کے رب نے شفاعت کے بارے میں آپ کو کیا جواب دیا؟ ارشاد فرمایا: 'اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھے یقین تھا کہ تم اس بارے میں مجھ سے سب سے پہلے پوچھو گے، کیونکہ میں نے تم میں علم کی بے حد حرص دیکھی ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جنت کے دروازے پر ان کا ہجوم مجھے اپنی شفاعت کی تکمیل سے زیادہ فکرمند رکھتا ہے۔ اور میری شفاعت اس کے لیے ہے جو خلوصِ دل سے لا الہ الا اللہ کی گواہی دے، اس کا دل اس کی زبان کی تصدیق کرے اور اس کی زبان اس کے دل کی تصدیق کرے۔'
