عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْفَقِيهُ بِالرِّيِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنَ أَبِي مَالِكٍ حَدَّثَنَا أَبُو سِبَاعٍ قَالَ اشْتَرَيْتُ نَاقَةً مِنْ دَارٍ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ فَلَمَّا خَرَجْتُ بِهَا أَدْرَكَنِي وَاثِلَةُ وَهُوَ يَجُرُّ إِزَارَهُ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ اشْتَرَيْتَ؟ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ بَيَّنَ لَكَ مَا فِيهَا؟ قُلْتُ وَمَا فِيهَا إِنَّهَا لَسَمِينَةٌ ظَاهِرَةُ الصِّحَّةِ؟ قَالَ أَرَدْتَ بِهَا سَفَرًا أَوْ أَرَدْتَ بِهَا لَحْمًا؟ قُلْتُ أَرَدْتُ بِهَا الْحَجَّ قَالَ فَارْتَجِعْهَا فَقَالَ صَاحِبُهَا مَا أَرَدْتَ إِلَّا هَذَا أَصْلَحَكَ اللَّهُ تُفْسِدُ عَلَيَّ قَالَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ «لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَبِيعَ شَيْئًا إِلَّا بَيَّنَ مَا فِيهِ وَلَا يَحِلُّ لِمَنْ عَلِمَ ذَلِكَ إِلَّا بَيَّنَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ صحيح
انگریزی ترجمہ
Abu Siba' narrated: I purchased a she-camel from the house of Hadrat Wathilah ibn al-Asqa' (may Allah be well pleased with him). When I took it out, Wathilah caught up with me, dragging his lower garment, and asked: "O servant of Allah, did you buy it?" I said: "Yes." He asked: "Did he disclose to you what is wrong with it?" I said: "What is wrong with it? It is fat and appears healthy!" He asked: "Did you intend it for travel or for meat?" I said: "I intended it for Hajj." He said: "Then return it." The seller said: "You only intended to spoil my sale, may Allah set you right!" Wathilah said: "Indeed, I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) saying: 'It is not lawful for anyone to sell anything except that he discloses what is wrong with it, and it is not lawful for one who knows that except that he discloses it.'"
اردو ترجمہ
ابو سباع سے روایت ہے: میں نے حضرت واثلہ بن الاسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر سے ایک اونٹنی خریدی۔ جب میں اسے لے کر نکلا تو واثلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنا تہبند گھسیٹتے ہوئے مجھے پکڑ لیے اور پوچھا: "اے اللہ کے بندے! تو نے خریدی؟" میں نے کہا: ہاں۔ فرمایا: "اس نے تجھے اس کا عیب بتایا؟" میں نے کہا: اس میں کیا عیب ہے، یہ تو موٹی تازی اور صحت مند ہے! فرمایا: "تو نے اسے سفر کے لیے لیا ہے یا گوشت کے لیے؟" میں نے کہا: حج کے لیے۔ فرمایا: "تو اسے واپس کر دے۔" مالک نے کہا: اللہ تمہیں سیدھا کرے، تم نے تو صرف میری بیع خراب کرنی تھی! واثلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں نے محبوب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: 'کسی کے لیے حلال نہیں کہ کوئی چیز بیچے مگر یہ کہ اس کا عیب بتائے، اور جسے عیب معلوم ہو اس کے لیے حلال نہیں مگر یہ کہ وہ بتائے۔'
