عربی (اصل)
قَالَ الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ الْمَكِّيُّ وَأَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَا��َ الْفَقِيهُ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ قَالَا ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى قَالُوا ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ثنا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِيَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَقُولُ بَعَثَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَأَتَيْتُهُ فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ عَلَيَّ ثِيَابِي وَسِلَاحِي ثُمَّ آتِيَهُ قَالَ فَفَعَلْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَصَعَّدَ فِيَّ الْبَصَرَ ثُمَّ طَأْطَأَ ثُمَّ قَالَ «يَا عَمْرُو إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَكَ عَلَى جَيْشٍ فَيُغْنِمُكَ اللَّهُ وَيُسَلِّمُكَ وَأَرْغَبُ لَكَ رَغْبَةً صَالِحَةً مِنَ الْمَالِ» قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَمْ أُسْلِمْ رَغْبَةً فِي الْمَالِ وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ رَغْبَةً فِي الْإِسْلَامِ وَأَنْ أَكُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ «يَا عَمْرُو نَعِمَّا بِالْمَالِ الصَّالِحِ لِلرَّجُلِ الصَّالِحِ»
انگریزی ترجمہ
Hadrat Amr ibn al-As (may Allah be well pleased with him) narrated: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) sent for me, so I came to him. He commanded me to put on my clothes and weapons and then come to him. So I did that and came to him while he was performing ablution. He looked up at me, then lowered his gaze and stated: "O Amr, I wish to send you as the commander of an army, and Allah will grant you spoils of war and keep you safe, and I desire for you a goodly share of wealth." I said: "O Messenger of Allah, I did not embrace Islam out of desire for wealth; rather, I embraced Islam out of desire for Islam itself and to be in the company of the Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)." He stated: "O Amr, how excellent is righteous wealth for a righteous man!"
اردو ترجمہ
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ محبوب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلوایا، تو میں حاضر ہوا۔ آپ نے مجھے حکم دیا کہ اپنے کپڑے اور ہتھیار پہن کر آؤ۔ میں نے ایسا ہی کیا اور حاضر ہوا جبکہ آپ وضو فرما رہے تھے۔ آپ نے نظر اٹھا کر مجھے دیکھا، پھر نظر جھکائی اور ارشاد فرمایا: "اے عمرو! میں تمہیں ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجنا چاہتا ہوں، اللہ تعالیٰ تمہیں غنیمت عطا فرمائے گا اور سلامت رکھے گا، اور میں تمہارے لیے مال کا ایک اچھا حصہ چاہتا ہوں۔" میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے مال کی لالچ میں اسلام قبول نہیں کیا بلکہ میں نے اسلام کی رغبت سے اسلام قبول کیا اور تاکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں رہوں۔ آپ نے ارشاد فرمایا: "اے عمرو! نیک آدمی کے لیے نیک مال کتنا اچھا ہے!"
