عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ ثنا أَبُو الْجَوَّابِ ثنا عَمَّارُ بْنُ زُرَيْقٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَتْ قُرَيْشٌ يُدْعُونَ الْحُمْسَ وَكَانُوا يَدْخُلُونَ مِنَ الْأَبْوَابِ فِي الْإِحْرَامِ وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ وَسَائِرُ الْعَرَبِ لَا يَدْخُلُونَ مِنَ الْأَبْوَابِ فِي الْإِحْرَامِ فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي بُسْتَانٍ فَخَرَجَ مِنْ بَابِهِ وَخَرَجَ مَعَهُ قُطْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ قُطْبَةَ بْنَ عَامِرٍ رَجُلٌ فَاجِرٌ إِنَّهُ خَرَجَ مَعَكَ مِنَ الْبَابِ فَقَالَ «مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟» قَالَ رَأَيْتُكَ فَعَلْتَ فَفَعَلْتُ كَمَا فَعَلْتَ فَقَالَ «إِنِّي أَحْمَسِيٌّ» قَالَ «إِنَّ دِينِي دِينُكَ» فَأَنْزَلَ اللَّهُ ﷻ {لَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا} [البقرة 189] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ الزِّيَادَةِ»
انگریزی ترجمہ
Hadrat Jabir ibn Abdullah (may Allah be well pleased with him) narrated: The Quraysh were called al-Hums and they would enter through doors while in ihram, but the Ansar and other Arabs would not enter through doors while in ihram. Once, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was in a garden and came out through its door, and Qutbah ibn Amir al-Ansari came out with him. They said: 'O Messenger of Allah, Qutbah ibn Amir is a sinful man — he came out with you through the door!' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) asked him: 'What prompted you to do that?' He submitted: 'I saw you do it, so I did as you did.' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'I am a Humsi.' He replied: 'My religion is your religion.' So Allah (Exalted is He) revealed: {Righteousness is not that you enter houses from their backs, but righteousness is in one who fears Allah. And enter houses from their doors} [al-Baqarah 189].
اردو ترجمہ
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ قریش کو حمس کہا جاتا تھا اور وہ احرام میں دروازوں سے داخل ہوتے تھے جبکہ انصار اور دیگر عرب احرام میں دروازوں سے داخل نہیں ہوتے تھے۔ ایک بار حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایک باغ میں تھے اور اس کے دروازے سے باہر نکلے اور آپ کے ساتھ قطبہ بن عامر انصاری بھی نکلے۔ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! قطبہ بن عامر فاجر آدمی ہے، وہ آپ کے ساتھ دروازے سے نکلا! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا: تمہیں اس پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ انہوں نے عرض کیا: میں نے آپ کو ایسا کرتے دیکھا تو میں نے بھی ایسا ہی کیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں حمسی ہوں۔ انہوں نے عرض کیا: میرا دین آپ کا دین ہے۔ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: {نیکی یہ نہیں کہ تم گھروں میں ان کی پشت سے آؤ بلکہ نیکی تو اس کی ہے جو تقویٰ اختیار کرے اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آؤ} [البقرہ 189]۔
