عربی (اصل)
أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنَزِيُّ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ثنا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ الْعَلَاءِ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ قَدْ بَايَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُمُ اقْتَسِمُوا لِلْمُهَاجِرِينَ قُرْعَةً فَطَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ فَأَنْزَلْنَاهُ فِي أَبْيَاتِنَا فَوَجِعَ وَجَعَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَلَمَّا تُوُفِّيَ غُسِّلَ وَكُفِّنَ فِي أَثْوَابِهِ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقُلْتُ يَا عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ فَشَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللَّهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «وَمَا يُدْرِيكِ أَنَّ اللَّهَ أَكْرَمَهُ؟» فَقَالَتْ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَنْ يُكْرِمُهُ اللَّهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ مَاذَا يُفْعَلُ بِي؟» قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا أُزَكِّي بَعْدَهُ أَحَدًا أَبَدًا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»
انگریزی ترجمہ
Umm al-'Ala, an Ansari woman who had pledged allegiance to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), narrated that they divided the Muhajirun among themselves by lots, and Hadrat Uthman ibn Maz'un (may Allah be well pleased with him) fell to our lot. We lodged him in our homes, and he fell ill with the sickness from which he died. When he passed away and was washed and shrouded, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came in. I said: "May the mercy of Allah be upon you, O Abu al-Sa'ib. I bear witness that Allah has honored you." The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "How do you know that Allah has honored him?" I submitted: "I do not know, may my father and mother be sacrificed for you, O Messenger of Allah." He stated: "As for him, certainty has come to him. By Allah, I hope for good for him, but by Allah, even though I am the Messenger of Allah, I do not know what will be done with me."
اردو ترجمہ
اُمّ العلاء جو ایک انصاری خاتون تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے مہاجرین کو قرعہ اندازی سے آپس میں تقسیم کیا تو حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمارے حصے میں آئے۔ ہم نے انہیں اپنے گھروں میں ٹھہرایا، پھر وہ اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں ان کی وفات ہوئی۔ جب وہ فوت ہوئے اور انہیں غسل دے کر کفن پہنایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے۔ مَیں نے کہا: ابو السائب! آپ پر اللہ کی رحمت ہو، مَیں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ نے آپ کو عزت دی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «تمہیں کیسے معلوم کہ اللہ نے اسے عزت دی ہے؟» عرض کیا: مجھے نہیں معلوم، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا: «اس کے پاس تو یقین آ چکا ہے۔ اللہ کی قسم! مَیں اس کے لیے خیر کی امید رکھتا ہوں، لیکن اللہ کی قسم! مَیں اللہ کا رسول ہونے کے باوجود نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔»
