عربی (اصل)
لما اقترف آدم الخطيئة قال يا رب! اسالك بحق محمد صلى الله عليه وسلم لما غفرت لي فقال الله عزوجل يا آدم و كيف عرفت محمدا صلى الله عليه وسلم ولم اخلقه؟ قال يا رب لما خلقني بيدك ونفخت فى من روحك رفعت راسي فرايت على قوائم العرش مكتوبا: لا اله الا الله محمد رسول الله فعلمت انك لم تضف الي اسمك الا احب الخلق اليك، فقال الله صدقت يا آدم! انه لا حب الخلق الي ادعني فقد غفرت لك ولو لا محمد صلى الله عليه وسلم ما خلقتك
انگریزی ترجمہ
When Adam committed the sin, he said: O Lord, I ask You by the right of Muhammad, peace be upon him, to forgive me. Allah said: O Adam, how do you know Muhammad when I have not yet created him? He said: O Lord, when You created me with Your Hand and breathed into me from Your Spirit, I raised my head and saw written on the pillars of the Throne: La ilaha illallah, Muhammad Rasulullah. I knew that You would not join to Your name any but the most beloved of Your creation. Allah said: You have spoken the truth, O Adam. He is indeed the most beloved of creation to Me. Call upon Me through him, for I have forgiven you. And had it not been for Muhammad, I would not have created you.
اردو ترجمہ
”جب آدم علیہ السلام نے گناہ کا ارتکا ب کیا تو کہا: اے پروردگار! میں محمدصلی اللہ علیہ وسلمکے حق کا واسطہ دے کر تجھ سے سوال کرتا ہوں مجھے معاف فرما دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم! تو نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیسے جانا، میں نے تو اسے ابھی پیدا بھی نہیں کیا؟ آدم علیہ السلام نے کہا کہ پروردگار! جب تو نے مجھے اپنے ہاتھ سے بنایا اور میرے اندر اپنی روح پھونکی تو میں نے اپنا سر اٹھایا تو دیکھا کہ عرش کے پایوں پر لکھا ہوا ہے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ مجھے معلوم ہو گیا کہ تو نے اپنے نام کے ساتھ جس کا اضافہ کیا ہے وہ مخلوق میں تجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے آدم! تو نے سچ کہا ہے۔ یقیناًََ مخلوق میں مجھے وہ سب سے زیادہ محبوب ہے لہٰذا تو مجھے اس کا واسطہ دے کر پکار، بلاشبہ میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے اور اگر محمد نہ ہوتا تو میں تجھے پیدا ہی نہ کرتا۔“[مجموعه ضعيف احاديث/حدیث: 201]
