عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَأَخَذَ مِنْهَا غُصْنًا يَابِسًا فَهَزَّهُ حَتَّى تَحَاتَّ وَرَقُهُ، قَالَ : أَمَا تَسْأَلُنِي : لِمَ أَفْعَلُ هَذَا؟ قُلْتُ لَهُ : لِمَ فَعَلْتَهُ؟، قَالَ : هَكَذَا فَعَلَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ :" إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، وَصَلَّى الْخَمْسَ تَحَاتَّتْ ذُنُوبُهُ كَمَا تَحَاتَّ هَذَا الْوَرَقُ "، ثُمَّ قَالَ : # وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ سورة هود آية 114 # إِلَى قَوْلِهِ # ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114 #
انگریزی ترجمہ
Abu Uthman narrated: I was with Hadrat Salman (may Allah be well pleased with him) under a tree. He took a dry branch from it and shook it until its leaves fell off. Then he asked: 'Will you not ask me why I did this?' I said: 'Why did you do it?' He said: 'The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) did the same to me, then stated: "When a Muslim performs ablution well and prays the five prayers, his sins fall off as these leaves have fallen off."' Then he recited: 'And establish prayer at the two ends of the day and in the early hours of the night...' up to '...that is a reminder for those who remember.' (Hud: 114)
اردو ترجمہ
ابو عثمان سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ایک درخت کے نیچے تھا۔ انہوں نے اس سے ایک خشک ٹہنی پکڑی اور ہلائی یہاں تک کہ اس کے پتے گر گئے۔ پھر فرمایا: کیا تم مجھ سے نہیں پوچھو گے میں نے یہ کیوں کیا؟ میں نے کہا: آپ نے یہ کیوں کیا؟ فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ساتھ ایسا ہی کیا تھا، پھر ارشاد فرمایا: جب مسلمان اچھی طرح وضو کرتا ہے اور پانچوں نمازیں پڑھتا ہے تو اس کے گناہ ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے یہ پتے گرے ہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: 'اور دن کے دونوں کناروں میں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کرو...' سے لے کر '...یہ نصیحت ہے یاد رکھنے والوں کے لیے۔' (ہود: ۱۱۴)
