عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ ، قَالَ : كَانَ طَاوُسٌيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ : " اتْرُكْهَا قَالَ : إِنَّمَا نُهِيَ عَنْهَا أَنْ تُتَّخَذُ سُلَّمًا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَإِنَّهُ قَدْ نُهِيَ عَنْ صَلَاةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَلَا أَدْرِي أَتُعَذَّبُ عَلَيْهَا أَمْ تُؤْجَرُ، لِأَنَّ اللَّهَ يَقُولُ : # وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالا مُبِينًا سورة الأحزاب آية 36 # "، قَالَ سُفْيَانُ : " تُتَّخَذَ سُلَّمًا، يَقُولُ : يُصَلِّي بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ "
انگریزی ترجمہ
Hisham ibn Hujayr narrated that Tawus used to pray two rak'ahs after Asr. Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with him) told him: "Leave them." He replied: "They were only forbidden lest people take them as a means (to keep praying until night)." Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with him) said: "Prayer after Asr has been forbidden, and I do not know whether you will be punished for it or rewarded, because Allah says: 'It is not befitting for a believing man or woman, when Allah and His Messenger have decided a matter, that they should have any option in their decision. And whoever disobeys Allah and His Messenger has indeed strayed into clear misguidance' (Surah al-Ahzab: 36)." Sufyan explained: 'Take them as a means' means to pray continuously after Asr until night.
اردو ترجمہ
ہشام بن حجیر سے روایت ہے کہ طاؤس عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے فرمایا: چھوڑ دو۔ انہوں نے کہا: اس سے تو منع کیا گیا تھا کہ اسے سیڑھی بنایا جائے (یعنی رات تک نماز پڑھتے رہیں)۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: عصر کے بعد نماز سے منع کیا گیا ہے، اور مجھے نہیں معلوم کہ تجھے اس پر عذاب ہو گا یا اجر، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: 'کسی مومن مرد اور مومن عورت کو یہ حق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کوئی بات فیصلہ فرما دیں تو ان کے لیے اپنے معاملے میں کوئی اختیار ہو۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ کھلی گمراہی میں جا پڑا' (سورۃ الاحزاب: ۳۶)۔ سفیان نے فرمایا: سیڑھی بنانے کا مطلب ہے عصر کے بعد رات تک نماز پڑھتے رہنا۔
