عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا رَيْحَانُ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ هُوَ ابْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيَّ ، يَقُولُ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ لَهُ : لِتَنَمْ عَيْنُكَ، وَلْتَسْمَعْ أُذُنُكَ، وَلْيَعْقِلْ قَلْبُكَ، قَالَ :" فَنَامَتْ عَيْنَايَ، وَسَمِعَتْ أُذُنَايَ، وَعَقَلَ قَلْبِي "، قَالَ : فَقِيلَ لِي : سَيِّدٌ بَنَى دَارًا فَصَنَعَ مَأْدُبَةً، وَأَرْسَلَ دَاعِيًا، فَمَنْ أَجَابَ الدَّاعِيَ، دَخَلَ الدَّارَ، وَأَكَلَ مِنْ الْمَأْدُبَةِ، وَرَضِيَ عَنْهُ السَّيِّدُ، وَمَنْ لَمْ يُجِبْ الدَّاعِيَ، لَمْ يَدْخُلْ الدَّارَ، وَلَمْ يَطْعَمْ مِنْ الْمَأْدُبَةِ، وَسَخِطَ عَلَيْهِ السَّيِّدُ، قَالَ : " فَاللَّهُ : السَّيِّدُ، وَمُحَمَّدٌ : الدَّاعِي، وَالدَّارُ : الْإِسْلَامُ، وَالْمَأْدُبَةُ : الْجَنَّةُ "
انگریزی ترجمہ
Rabi'ah al-Jurashi narrated that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was approached and it was said to him: 'Let your eyes sleep, let your ears hear, and let your heart comprehend.' He stated: 'So my eyes slept, my ears heard, and my heart comprehended.' Then it was said to him: 'A master built a house and prepared a feast, and sent an inviter. Whoever answered the inviter entered the house, ate from the feast, and the master was pleased with him. And whoever did not answer the inviter did not enter the house, did not eat from the feast, and the master was angry with him.' He stated: 'Allah is the Master, Muhammad is the inviter, the house is Islam, and the feast is Paradise.'
اردو ترجمہ
حضرت ربیعہ جرشی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا گیا اور آپ سے کہا گیا: آپ کی آنکھیں سوئیں، آپ کے کان سنیں اور آپ کا دل سمجھے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری آنکھیں سوئیں، میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے سمجھا۔ پھر مجھ سے کہا گیا: ایک سردار نے ایک گھر بنایا اور دعوت تیار کی اور ایک بلانے والا بھیجا۔ جس نے بلانے والے کی بات مانی وہ گھر میں داخل ہوا، دعوت سے کھایا اور سردار اس سے راضی ہوا۔ اور جس نے بلانے والے کی بات نہیں مانی وہ گھر میں داخل نہیں ہوا، دعوت سے نہیں کھایا اور سردار اس سے ناراض ہوا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سردار ہے، محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) بلانے والے ہیں، گھر اسلام ہے اور دعوت جنت ہے۔
