عربی (اصل)
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى : أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَخْبَرَهُ : " أَنَّ غُلَامًا بِالْمَدِينَةِ حَضَرَهُ الْمَوْتُ وَوَرَثَتُهُ بِالشَّامِ ، وَأَنَّهُمْ ذَكَرُوا لِعُمَرَ أَنَّهُ يَمُوتُ، فَسَأَلُوهُ أَنْ يُوصِيَ، فَأَمَرَهُ عُمَرُ أَنْ يُوصِيَ،فَأَوْصَى بِبِئْرٍ يُقَالُ لَهَا : بِئْرُ جُشَمَ، وَإِنَّ أَهْلَهَا بَاعُوهَا بِثَلَاثِينَ أَلْفًا، ذَكَرَ أَبُو بَكْرٍ أَنَّ الْغُلَامَ كَانَ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ، أَوْ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ "
انگریزی ترجمہ
Abu Bakr ibn Muhammad ibn Amr ibn Hazm narrated: A boy in Madinah was on the verge of death while his heirs were in Syria. They mentioned to Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) that he was dying and asked him whether the boy should make a bequest. Umar ordered him to make a bequest. He bequeathed a well called Bi'r Jusham. His family later sold it for thirty thousand (dirhams). Abu Bakr mentioned that the boy was ten or twelve years old.
اردو ترجمہ
ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم بیان کرتے ہیں: مدینہ میں ایک لڑکا موت کے قریب تھا جبکہ اس کے وارث شام میں تھے۔ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ذکر کیا کہ وہ مر رہا ہے اور پوچھا کہ کیا لڑکا وصیت کرے۔ عمر نے اسے وصیت کرنے کا حکم دیا۔ اس نے بئرِ جشم نامی کنویں کی وصیت کی۔ اس کے گھر والوں نے بعد میں اسے تیس ہزار (درہم) میں بیچا۔ ابوبکر نے بتایا کہ لڑکا دس یا بارہ سال کا تھا۔
