عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَارِبَ بْنَ دِثَارٍ يَذْكُرُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْيَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًا، أَوْ يُخَوِّنَهُمْ، أَوْ يَلْتَمِسَ عَثَرَاتِهِمْ ". قَالَ سُفْيَانُ : قَوْلُهُ : أَوْ يُخَوِّنَهُمْ، أَوْ يَلْتَمِسَ عَثَرَاتِهِمْ، مَا أَدْرِي : شَيْءٌ. قَالَهُ مُحَارِبٌ : أَوْ شَيْءٌ هُوَ فِي الْحَدِيثِ
انگریزی ترجمہ
Hadrat Jabir bin Abdullah (may Allah be well pleased with them) narrated: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) forbade that a man should come to his family at night (unexpectedly) to suspect them of betrayal or to search for their faults. Sufyan said: His statement 'to suspect them of betrayal or to search for their faults' - I do not know whether it is from the hadith or from the words of the narrator.
اردو ترجمہ
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا کہ آدمی رات کو اچانک اپنے گھر والوں کے پاس آئے تاکہ ان پر خیانت کا الزام لگائے یا ان کی لغزشیں تلاش کرے۔ سفیان نے کہا: 'ان پر خیانت کا الزام لگائے یا ان کی لغزشیں تلاش کرے' - مجھے نہیں معلوم کہ یہ حدیث کا حصہ ہے یا راوی کے الفاظ ہیں۔
