عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ عَنْ أَرْوَاحِ الشُّهَدَاءِ، وَلَوْلَا عَبْدُ اللَّهِ لَمْ يُحَدِّثْنَا أَحَدٌ، قَالَ :" أَرْوَاحُ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي حَوَاصِلِ طَيْرٍ خُضْرٍ، لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ، تَسْرَحُ فِي أَيِّ الْجَنَّةِ شَاءُوا ثُمَّ تَرْجِعُ إِلَى قَنَادِيلِهَا فَيُشْرِفُ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ، فَيَقُولُ : أَلَكُمْ حَاجَةٌ؟. تُرِيدُونَ شَيْئًا؟، فَيَقُولُونَ : لَا، إِلَّا أَنْ نَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَنُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى "
انگریزی ترجمہ
Hadrat Masruq narrated: We asked Hadrat Abdullah (ibn Mas'ud, may Allah be well pleased with him) about the souls of the martyrs — and had it not been for Abdullah, no one would have told us. He said: "The souls of the martyrs on the Day of Resurrection are in the crops of green birds that have lanterns hanging from the Throne. They roam freely in Paradise wherever they wish, then return to their lanterns. Their Lord looks upon them and says: 'Do you need anything? Do you want anything?' They say: 'No, except that we return to the world and are killed once more.'"
اردو ترجمہ
حضرت مسروق سے روایت ہے: ہم نے حضرت عبداللہ (ابن مسعود) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے شہداء کی روحوں کے بارے میں پوچھا — اور اگر عبداللہ نہ ہوتے تو ہمیں کسی نے نہ بتاتا۔ فرمایا: "شہداء کی روحیں قیامت کے دن سبز پرندوں کے حوصلوں میں ہوتی ہیں جن کے قندیلیں عرش سے لٹکی ہوتی ہیں۔ جنت میں جہاں چاہیں گھومتے ہیں پھر اپنی قندیلوں میں واپس آتے ہیں۔ ان کا رب ان پر نظر فرماتا ہے اور فرماتا ہے: تمہیں کوئی حاجت ہے؟ کچھ چاہتے ہو؟ وہ کہتے ہیں: نہیں، بس یہ کہ ہم دنیا میں لوٹیں اور ایک بار اور قتل ہوں۔"
