عربی (اصل)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضى الله عنه - { أَنَّ رَسُولَ اَللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -مَرَّ عَلَى صُبْرَةِ طَعَامٍ, فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا, فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا , فَقَالَ: " مَا هَذَا يَا صَاحِبَ اَلطَّعَامِ? " قَالَ: أَصَابَتْهُ اَلسَّمَاءُ يَا رَسُولَ اَللَّهِ. فَقَالَ: أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ اَلطَّعَامِ; كَيْ يَرَاهُ اَلنَّاسُ? مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنِّي } رَوَاهُ مُسْلِمٌ 1 .1 - صحيح. رواه مسلم ( 102 ). والصبرة: الكومة المجتمعة من الطعام.
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Abu Hurairah (may Allah be well pleased with him) that Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) once came upon a heap of grain, and when he put his hand inside it, his fingers felt some dampness. So, he asked, "What is this, O owner of the grain?" He replied, "Rain had fallen on it, O Allah's Messenger." He said, "Why did you not put it (the damp part) on the top of the foodstuff so that people might see it? Whoever cheats has nothing to do with me." .
اردو ترجمہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایک غلے کے ڈھیر کے پاس سے گزرے، آپ نے اس میں ہاتھ ڈالا تو انگلیوں کو نمی محسوس ہوئی۔ آپ نے فرمایا: اے غلے کے مالک! یہ کیا ہے؟ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس پر بارش پڑ گئی تھی۔ آپ نے فرمایا: پھر تم نے اسے اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لوگ دیکھ لیتے؟ جس نے دھوکا دیا وہ مجھ سے نہیں ہے۔ اسے مسلم نے روایت کیا۔
