عربی (اصل)
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ اَلْخُدْرِيِّ - رضى الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -{ لَا تَحِلُّ اَلصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا لِخَمْسَةٍ: لِعَامِلٍ عَلَيْهَا, أَوْ رَجُلٍ اِشْتَرَاهَا بِمَالِهِ, أَوْ غَارِمٍ, أَوْ غَازٍ فِي سَبِيلِ اَللَّهِ, أَوْ مِسْكِينٍ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ مِنْهَا, فَأَهْدَى مِنْهَا لِغَنِيٍّ } رَوَاهُ أَحْمَدُ, وَأَبُو دَاوُدَ, وَابْنُ مَاجَهْ, وَصَحَّحَهُ اَلْحَاكِمُ, وَأُعِلَّ بِالْإِرْسَالِ 1 .1 - صحيح. رواه أحمد ( 3 / 56 )، وأبو داود ( 1636 )، وابن ماجه ( 1841 )، والحاكم ( 1 / 407 ) موصولا. ورواه مرسلا مالك في "الموطأ" ( 1 / 256 - 257 )، وأبو داود ( 1635 )، وغيرهما، ولذلك أعله بعضهم -كأبي داود- بالإرسال، وخالفهم في ذلك الحاكم وغيره، بل قال الحافظ في "التلخيص": "صححه جماعة".
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Sa'id Al-Khudri narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated:“Zakah is not allowed for the well-off person except for one of the following five: an administrator of Zakah, a man who buys Zakah holdings with his money, a person who is in debt, a fighter in the cause of Allah, or a rich person who is given a present by a needy (miskin) person which the latter had been given as Zakah.” Related by Ahmad, Abu Dawud, Ibn Majah, and Al-Hakim regarded it as Sahih.
اردو ترجمہ
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مالدار کے لیے زکاۃ (لینا) حلال نہیں ہے سوائے پانچ صورتوں کے: اللہ کے راستے میں غزوہ کرنے والا، یا زکاۃ وصول کرنے والا عامل، یا قرض دار، یا وہ شخص جس نے اپنے مال سے خریدا ہو (اور بعد میں اسے صدقے میں دیا گیا ہو)، یا وہ شخص جس کا مسکین پڑوسی ہے اور مسکین پڑوسی نے اسے (اپنے صدقے میں سے) ہدیہ دیا ہو۔ (حضرت ابوداؤد، ابن ماجہ)
