عربی (اصل)
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اَللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: { قَاتَلَ يُعْلَى بْنُ أُمِّيَّةَ رَجُلًا, فَعَضَّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ, فَنَزَعَ ثَنِيَّتَهُ, فَاخْتَصَمَا إِلَى اَلنَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم -فَقَالَ: "أَيَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ اَلْفَحْلُ? لَا دِيَةَ لَهُ" } مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ, وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ. 1 .1 - صحيح. رواه البخاري (6892)، وزاد مسلم (1673)، وزاد مسلم: "فانتزع يده من فمه" بعد قوله: "صاحبه"، وليس عنده لفظ: "أخاه" وهو عند البخاري.
انگریزی ترجمہ
Hadrat 'Imran bin Husain (RAA) narrated, ’Ya’la bin Umaiyah fought with another man. One of them bit the other man’s finger and the latter (whose finger was bit) pulled his hand out of the first man’s mouth (who was biting) by force, causing his incisors teeth to be pulled out. They presented their dispute to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) who said, “One of you bit his brother as a male camel bites? Go and there is not Diyah for him (as a punishment for their foolishness).’Agreed upon and the wording is from Muslim.
اردو ترجمہ
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: یعلی بن امیہ نے ایک شخص سے لڑائی کی، ایک نے دوسرے کو کاٹا تو اس نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا اور اس کا اگلا دانت نکل گیا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس فیصلے کے لیے آئے تو آپ نے فرمایا: تم میں سے ایک اپنے بھائی کو اس طرح کاٹتا ہے جیسے نر اونٹ کاٹتا ہے! اس کے لیے کوئی دیت نہیں۔ متفق علیہ اور الفاظ مسلم کے ہیں۔
