عربی (اصل)
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضى الله عنه - { أَنَّ جَارِيَةً وُجَدَ رَأْسُهَا قَدْ رُضَّ بَيْنَ حَجَرَيْنِ, فَسَأَلُوهَا: مَنْ صَنَعَ بِكِ هَذَا? فُلَانٌ. فُلَانٌ. حَتَّى ذَكَرُوا يَهُودِيًّا. فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا, فَأُخِذَ اَلْيَهُودِيُّ, فَأَقَرَّ, فَأَمَرَ رَسُولُ اَللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -أَنْ يُرَضَّ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ. } مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ, وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ. 1 .1 - صحيح. رواه البخاري (2413)، ومسلم (1672) (17).
انگریزی ترجمہ
Hadrat Anas bin Malik (RAA) narrated that a girl was found with her head crushed between two stones. They asked her, ‘Who did that to you? Is it so and so, or so and so? They mentioned some names to her until they mentioned the name of a Jew, whereupon she nodded her head. The Jew was captured and he confessed. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) ordered that his head be crushed between two stones.’ Agreed upon and the wording is from Muslim.
اردو ترجمہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان کچلا ہوا پایا گیا۔ لوگوں نے اس سے پوچھا: تیرے ساتھ کس نے ایسا کیا؟ فلاں نے؟ فلاں نے؟ یہاں تک کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے سر سے اشارہ کیا۔ یہودی پکڑا گیا اور اس نے اقرار کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان کچلا جائے۔ متفق علیہ اور الفاظ مسلم کے ہیں۔
