انگریزی ترجمہ
Abu Hujayfah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) established brotherhood between Salman and Abu al-Darda' (may Allah be pleased with them). Salman visited Abu al-Darda' and found his wife (Umm al-Darda') in a disheveled state. He asked her: "What is the matter with you?" She said: "Your brother Abu al-Darda' has no need for anything of this world." Then Abu al-Darda' came and prepared food for Salman, saying: "Eat, for I am fasting." Salman said: "I will not eat unless you eat." So Abu al-Darda' broke his fast and ate with him. At night, Abu al-Darda' stood up to pray, but Salman said: "Sleep." He slept. Later he got up again, and Salman said: "Sleep." Then in the last part of the night, Salman said: "Now get up." They both prayed. Then Salman said: "Indeed, your Lord has a right over you, your soul has a right over you, and your wife has a right over you — so give each one their due right." Abu al-Darda' went to the Prophet (peace be upon him) and told him the entire story. The Prophet (peace be upon him) said: "Salman spoke the truth."
اردو ترجمہ
سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہنبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے سیدنا سلمان اور سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارا کر دیا تھا۔ اس وجہ سے (ایک دن) سلمان، ابوالدرداء (رضی اللہ عنہ) سے ملاقات کو گئے تو انھوں نے ام الدرداء کو بہت خستہ حالت میں پایا اور ان سے کہا کہ تمہارا کیا حال ہے؟ وہ بولیں کہ تمہارے بھائی ابوالدرداء کو اب دنیا کی کچھ ضرورت نہیں رہی۔ اتنے میں ابوالدرداء بھی آ گئے اور انھوں نے سلمان کے لئے کھانا تیار کیا اور (سلمان سے) کہا کہ تم کھاؤ میں تو روزہ دار ہوں سلمان نے جواب دیا کہ میں نہیں کھاؤں گا تاوقتیکہ تم بھی کھاؤ۔ بالآخر ابوالدرداء نے (روزہ توڑ دیا اور سلمان کے ساتھ) کھانا کھایا۔ پھر جب رات ہوئی تو ابوالدرداء نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے۔ سلمان نے کہا کہ ابھی سو جاؤ چنانچہ وہ سو گئے پھر تھوڑی دیر کے بعد وہ اٹھنے لگے تو سلمان نے کہا کہ ابھی سو جاؤ۔ پھر جب اخیر رات ہوئی تو سلمان نے کہا کہ اب اٹھو! چنانچہ دونوں نے نماز پڑھی پھر ابوالدرداء سے سلمان نے کہا کہ بیشک تمہارے پروردگار کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری جان کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے پس تم ہر صاحب حق کا حق ادا کرو۔ پھر ابوالدرداء نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آئے اور آپصلی اللہ علیہ وسلمسے یہ تمام (واقعہ) بیان کیا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”سلمان نے سچ کہا۔“(رضوان اللہ علیہ اجمعین)[مختصر صحيح بخاري/حدیث: 957]
