انگریزی ترجمہ
Narrated Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him): Cooked meat was brought to the Messenger of Allah (peace be upon him), and the foreleg was raised up and given to him, for he (peace be upon him) liked it. He (peace be upon him) took it with his teeth and began to eat, then he said: "On the Day of Resurrection I will be the chief of all people. Do you know why? It is because on the Day of Resurrection Allah the Exalted will gather all people, the first and the last, in one plain (so level a plain) that a caller can make his voice heard by all of them and an onlooker can see all of them. The sun will be very close, and at that time the people will suffer such unbearable distress and grief as they cannot endure. At that time people will say to one another, 'Look at the distress you are in; seek someone to intercede who may intercede for you with your Lord.' Some will say, 'Let us go to Adam (peace be upon him).' So they will all come to him and say, 'You are the father of all people (Abu al-Bashar); Allah the Exalted created you with His blessed Hands and breathed into you of His spirit and made the angels prostrate to you; intercede for us. See what distress we are in and what has become of us.' Adam (peace be upon him) will say, 'Today my Lord is so angry that never before has He been so angry and never after will He be so angry; and He forbade me the fruit of that tree, but I (ate it and) disobeyed. Myself, myself, myself (I am concerned only with myself)!' And he will say, 'Go to someone else; go to Nuh.' Then those people will come to Nuh (peace be upon him) and say, 'You were the first Prophet sent to the earth; Allah named you a grateful servant (abdan shakura); intercede for us. Do you not see the state we are in, what distress we are afflicted with?' He will say, 'Today Allah the Exalted is so angry as He never was before and never will be after; and I had one supplication granted to me which would be accepted, and I have already used it for my nation (I used that accepted supplication as an invocation against my people, by which they were destroyed). Myself, myself (I am concerned even for myself)!' And he will say, 'Go to someone else; go to Ibrahim (peace be upon him).' So all will come to Ibrahim (peace be upon him) and say, 'You are Allah's Prophet and His intimate friend (Khalil) among all the people of the earth; intercede for us with your Lord. Do you not see what a wretched state we are in?' He will say, 'Today Allah the Exalted is so angry as He never was before and never will be after; and I told three lies. (Then he will say) Myself, myself, myself (I am concerned only with myself)! Go to someone other than me; go to Musa.' So those people will come to Musa (peace be upon him) and say, 'O Musa! You are the Messenger of Allah; Allah the Exalted gave you superiority over all people through His message and His speech; intercede for us with your Lord. See what a (wretched) state we are in.' He too will say, 'Today your Lord is so angry as He never was before and never will be after; and (I committed a sin) I killed a person whom I had not been commanded to kill.' Then he will say, 'Myself, myself, myself (I am concerned only with myself)! Go to someone else; (do this) go to Isa (peace be upon him).' So the people will come to Isa (peace be upon him) and say, 'O Isa! You are the Messenger of Allah, and His word which He cast into Maryam (peace be upon her), and a spirit from Him; you spoke to people in the cradle in your infancy; intercede for us (that Allah may deliver us from the terrors of this plain of Gathering). See what a (wretched) state we are in.' Isa (peace be upon him) will say, 'Today my Lord is so angry as He never was before and never will be after.' Then, after that, he will not mention any sin of his; he too will say, 'Myself, myself, myself (I am seized with concern for myself)!' And he will say, 'Go to someone else; (I think) go to Muhammad (peace be upon him).' So those people will come to Muhammad and say, 'O Muhammad! You are the Messenger of Allah and the Seal of the Prophets, and indeed Allah the Exalted has forgiven you your former and latter sins; intercede for us with Allah. See what distress we are in.' (The Messenger of Allah (peace be upon him) says:) 'As soon as I hear this, I will set out (from the plain of Gathering) and come beneath the Throne and fall down in prostration. Allah the Exalted will inspire into my heart such words of His praise and glory (He will cause my tongue to utter them) as He never taught to anyone before me. Then it will be said, "O Muhammad! Raise your head and ask; whatever you ask will be given, and whoever you intercede for will be accepted." I will raise my head and say, "O my Lord! Have mercy on my nation; O my Lord! Have mercy on my nation; O my Lord! Have mercy on my nation." It will be said, "O Muhammad! Admit those of your nation who have no reckoning to account for through the right gate of Paradise; and they are also allowed to enter, like other people, through the other gates besides that gate."' Then he (peace be upon him) said: "The width of one gate of Paradise is like the distance between Makkah and Himyar (that is, San'a, the capital of Yemen), or between Makkah and Busra (in Sham)." (The narrator is in doubt.)
اردو ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہرسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس پکا ہوا گوشت لایا گیا تو دستی کا گوشت آپصلی اللہ علیہ وسلمکو اٹھا کر دیا گیا، وہ آپصلی اللہ علیہ وسلمکو پسند تھا، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اس کو دانتوں سے پکڑا اور تناول فرمانے لگے، پھر فرمایا:”میں قیامت کے دن سب کا سردار ہوں، آیا تم جانتے ہو کہ کس وجہ سے؟ اس لیے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلے پچھلے آدمیوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرے گا اور (وہ میدان ایسا ہموار ہو گا کہ) پکارنے والا اپنی آواز ان کو سنا سکے اور دیکھنے والا ان سب کو دیکھ سکے گا، سورج بہت قریب ہو گا، اس وقت لوگوں کو ایسی ناقابل برداشت تکلیف اور غم ہو گا کہ جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے۔ اس وقت لوگ آپس میں کہیں گے کہ دیکھو کیسی تکلیف ہو رہی ہے، کوئی سفارشی شفیع تلاش کرو جو پروردگار کے پاس تمہاری کچھ سفارش کرے۔ بعض کہیں گے کہ آدم علیہ السلام کے پاس چلو تو سب کے سب ان کے پاس آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ آپ تمام آدمیوں کے باپ (ابوالبشر) ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے مبارک ہاتھوں سے بنایا ہے اور اپنی روح آپ میں پھونکی ہے اور فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا ہے، آپ ہماری شفاعت کیجئیے۔ دیکھئیے ہمیں کیسی تکلیف ہو رہی ہے اور ہمارا کیا حال ہو رہا ہے۔ آدم علیہ السلام کہیں گے کہ آج میرا رب اتنے غصہ میں ہے کہ نہ تو اس سے پہلے کبھی ایسا غصہ ہوا ہو گا اور نہ اس کے بعد ایسا غصے میں آئے گا اور مجھے اس درخت کے پھل سے منع کیا تھا لیکن میں نے (کھا لیا اور) نافرمانی کی اور نفسی نفسی نفسی (مجھے تو خود اپنی پڑی ہے) کہیں گے، اور پھر کہیں گے کہ تم کسی اور کے پاس جاؤ، نوح کے پاس جاؤ۔ پھر وہ لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ تم سب سے پہلے زمین پر نبی بن کر آئے ہو، اللہ نے تمہارا نام عبداً شکوراً (شکرگزار بندہ) رکھا ہے، ہماری شفاعت کرو، ہمارا حال نہیں دیکھتے کہ کس تکلیف میں مبتلا ہیں؟ وہ کہیں گے کہ آج اللہ تعالیٰ اتنا غصے میں ہے کہ نہ تو ایسا پہلے کبھی ہوا اور نہ اس کے بعد ہو گا اور میرے واسطے ایک دعا کا حکم تھا کہ وہ مقبول ہو گی وہ میں اپنی امت کے لیے مانگ چکا (وہ مقبول دعا اپنی قوم پر بددعا کی شکل میں کر چکا ہوں جس سے وہ ہلاک ہو گئی تھی) اور نفسی نفسی (مجھے تو اپنی بھی فکر ہے) کہیں گے، اور کہیں گے کہ کسی اور کے پاس جاؤ، ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ تو سب ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ آپ اللہ کے نبی اور ساری زمین والوں میں اس کے خلیل (جانی دوست) ہیں آپ پروردگار کے ہاں ہماری شفاعت کیجئیے ہمارا حال نہیں دیکھتے کیسا خراب ہو رہا ہے؟ وہ کہیں گے کہ آج کے دن اللہ تعالیٰ بہت غصے میں ہے اتنا غصے میں کہ نہ تو اس سے پہلے کبھی ایسا ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ہو گا اور میں نے تین جھوٹ بولے تھے (پھر کہیں گے) نفسی نفسی نفسی (مجھے تو اپنی پڑی ہے)، تم میرے علاوہ کسی دوسرے کے پاس جاؤ، اچھا موسیٰ کے پاس جاؤ تو وہ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ اور کہیں گے کہ اے موسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی رسالت اور کلام سے تمام لوگوں پر فضیلت و بزرگی دی ہے، آپ پروردگار سے ہماری سفارش کیجئیے، دیکھئیے ہماری کیسی (بری) حالت ہے تو وہ بھی یہی کہیں گے کہ آج تیرا رب بہت غصے میں ہے، اتنا غصے میں کہ نہ اس سے پہلے کبھی ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ہو گا اور (مجھ سے ایک گناہ ہوا تھا) میں نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا، جس کے قتل کا مجھے حکم نہیں ملا تھا، پھر کہیں گے نفسی نفسی نفسی (مجھے تو اپنی پڑی ہے)، تم کسی دوسرے کے پاس جاؤ (ایسا کرو کہ) تم عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ تو لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے عیسیٰ! آپ اللہ کے رسول اور اس کا وہ کلمہ ہیں جس کو اس نے مریم علیہ السلام کی طرف ڈالا تھا اور اس کی روح ہیں اور آپ نے گود میں رہ کر بچپن میں لوگوں سے باتیں کی ہیں، آپ ہمارے لیے شفاعت کیجئیے (کہ اللہ ہم کو اس میدان حشر کی ہولناکیوں سے نجات دے) دیکھئیے ہم کیسی (بری) حالت میں ہیں تو عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے کہ آج میرا رب بہت غصے میں ہے، اتنا غصے میں کہ نہ اس سے پہلے کبھی ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ہو گا، پھر وہ اس کے بعد اپنا کوئی گناہ بیان نہ کریں گے، وہ بھی نفسی نفسی نفسی (مجھے تو اپنی فکر دامن گیر ہے) کہیں گے اور کہیں گے کہ تم کسی دوسرے کے پاس جاؤ (میرے خیال میں) تم محمدصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس جاؤ تو وہ لوگ محمد کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے کہ اے محمد! آپ اللہ کے رسول اور خاتم الابنیاء ہیں، اور بیشک اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کر دیے ہیں، اللہ سے ہماری شفاعت کیجئیے، دیکھئیے تو سہی کہ ہمیں کیسی تکلیف ہے۔ (رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمفرماتے ہیں کہ):”میں یہ سنتے ہی (میدان حشر سے) چلوں گا اور عرش کے نیچے آ کر سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ اپنی تعریف اور خوبی کی وہ وہ باتیں میرے دل میں ڈال دے گا (میری زبان سے نکلوائے گا) جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں بتلائیں، پھر حکم ہو گا کہ اے محمد! سر اٹھا اور مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا جس کی سفارش کرے گا قبول کی جائے۔ میں سر اٹھا کر عرض کروں گا اے میرے رب! میری امت پر رحم فرما، اے میرے رب میری امت پر رحم فرما، اے رب! میری امت پر رحم فرما۔ حکم ہو گا کہ اے محمد! اپنی امت میں سے جن لوگوں پر کوئی حساب کتاب نہیں ان کو جنت کے داہنے دروازے سے داخل کرو اور انھیں یہ بھی اختیار ہے کہ دوسرے لوگوں کی طرح اس دروازے کے علاوہ باقی دروازوں سے بھی جا سکتے ہیں۔“پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جنت کے ایک دروازے کی چوڑائی ایسی ہے۔ جیسے مکہ اور حمیر (یعنی صنعاء جو یمن کا دارالحکومت ہے) کے درمیان کا فاصلہ یا مکہ اور بصریٰ (ملک شام) کے درمیان کا فاصلہ۔ (راوی کو شک ہے)۔[مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1751]
