انگریزی ترجمہ
Narrated Abdullah bin Umar (may Allah be pleased with them both): Ibn Juraij said to him: "I noticed that you only touch the two Yamani corners during Tawaf, that you wear tanned leather sandals, that you dye your hair yellow, and that when in Makkah, you do not don the ihram until the Day of Tarwiyah (8th Dhul-Hijjah) while others do so at the sighting of the new moon." Ibn Umar replied: "As for the corners, I never saw the Messenger of Allah (peace be upon him) touch any except the two Yamani corners. As for the sandals, I saw the Prophet wearing leather sandals without hair and performing ablution in them, so I like to wear the same. As for the yellow dye, I saw the Prophet dyeing with it, so I like to dye with it. As for the ihram, I never saw the Prophet don the ihram until his mount departed (on the 8th of Dhul-Hijjah)."
اردو ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے (ابن حریج نے) کہا کہمیں نے تمہیں دیکھا کہ (طواف میں) سوائے دونوں یمانی (رکنوں) کے اور کسی رکن کو تم مس نہیں کرتے اور میں نے تمہیں دیکھا کہ تم سبتی جوتیاں پہنتے ہو اور میں نے دیکھا کہ تم زردی سے (اپنے بالوں کو یا لباس کو) رنگ لیتے ہو اور میں نے تمہیں دیکھا کہ جب تم مکہ میں ہوتے ہو تو اور لوگ تو جب (ذی الحجہ کا) چاند دیکھتے ہیں (اسی وقت سے) احرام باندھ لیتے ہیں اور تم جب تک ترویہ (آٹھ ذوالحجہ) کا دن نہیں آ جاتا احرام نہیں باندھتے تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بولے کہ (بیشک میں) یہ کام کرتا ہوں تو ان میں جہاں تک ارکان یمانی کا (طواف میں) مس کرنا ہے تو میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو ان دونوں یمانی (رکنوں) کے سوا اور کسی رکن کو مس کرتے نہیں دیکھا۔ اسی طرح سبتی جوتے ہیں تو بیشک میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو ایسے جوتے پہنے ہوئے دیکھا ہے جن پر بال نہ ہوں اور آپصلی اللہ علیہ وسلماسی جوتے میں وضو فرماتے تھے (یعنی پیر دھوتے تھے، مسح نہیں کرتے تھے)۔ لہٰذا میں پسند کرتا ہوں کہ ایسے ہی جوتے پہنوں۔ اسی طرح زردی (کا رنگ ہے)، تو بیشک میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو اس سے رنگتے ہوئے دیکھا ہے۔ لہٰذا میں پسند کرتا ہوں کہ اسی سے رنگوں اور اسی طرح احرام باندھنا ہے تو میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو (احرام باندھتے ہوئے) نہیں دیکھا تاوقتیکہ آپصلی اللہ علیہ وسلمکی سواری نہ چلے (یعنی آٹھویں تاریخ کو)۔[مختصر صحيح بخاري/حدیث: 132]
