عربی (اصل)
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، أَنَّ هِرَقْلَ، دَعَا تَرْجُمَانَهُ، ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَرَأَهُ " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى هِرَقْلَ، وَ{يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ }" الآيَةَ.
انگریزی ترجمہ
And Hadrat Ibn 'Abbas narrated:Abu Sufyan bin Harb told me that Heraclius called for his translator and then asked for the letter of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), and the former read it (thus): "In the Name of Allah, the Most Gracious, the Merciful. (This letter is) from Muhammad bin Hadrat 'Abdullah, to Heraclius. "...O people of the Scripture (Jews and Christians): Come to a word that is just between us and you that we worship none but Allah..." (V.3:)
اردو ترجمہ
اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ مجھے حضرت ابوسفیان بن حرب نے خبر دی کہ ہرقل نے اپنے ترجمان کو بلایا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا خط منگوایا اور اسے پڑھا۔ شروع اللہ کے نام سے جو بہت نہایت رحم کرنے والا بڑا مہربان ہے۔ اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ہرقل کی جانب۔ پھر یہ آیت لکھی تھی «يا أهل الكتاب تعالوا إلى كلمة سواء بيننا وبينكم» کہ ”اے کتاب والو! اس بات پر آ جاؤ جو ہم میں تم میں یکساں مانی جاتی ہے“ آخر آیت تک۔
