عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ، قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِرَجُلٍ. قَالَ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ سَمِعْتُ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَجُلاً، مِنَ الأَزْدِ يُقَالُ لَهُ مَالِكٌ ابْنُ بُحَيْنَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَثَ بِهِ النَّاسُ، وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الصُّبْحَ أَرْبَعًا، الصُّبْحَ أَرْبَعًا ". تَابَعَهُ غُنْدَرٌ وَمُعَاذٌ عَنْ شُعْبَةَ فِي مَالِكٍ. وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ سَعْدٍ عَنْ حَفْصٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ. وَقَالَ حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا سَعْدٌ عَنْ حَفْصٍ عَنْ مَالِكٍ.
انگریزی ترجمہ
Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) narrates that during his final illness, when the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) became seriously ill, he stated: 'Tell Hadrat Abu Bakr to lead the people in prayer.' Hadrat Aisha submitted: Hadrat 'Abu Bakr is a soft-hearted person; when he stands in your place, he will not be able to lead the people in prayer (due to weeping).' He repeated: 'Tell Hadrat Abu Bakr to lead the people in prayer.' Hadrat Aisha again made the same submission. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated the third or fourth time: 'You are like the female companions of Yusuf (upon him be peace)! Tell Hadrat Abu Bakr to lead the people in prayer.' So Hadrat Abu Bakr (may Allah be well pleased with him) led the prayer.
اردو ترجمہ
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنے مرض الوفات میں جب (بیماری) بھاری ہو گئی تو آپ نے فرمایا: حضرت ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا: حضرت ابوبکر رقیق القلب آدمی ہیں، جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے (روتے ہوئے قراءت نہ کر سکیں گے)۔ آپ نے دوبارہ فرمایا: حضرت ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پھر وہی عرض کیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا: تم تو یوسف (علیہ السلام) کی ساتھنیاں ہو! حضرت ابوبکر سے کہو لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز پڑھائی۔
