عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَارِمٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ قُرِئَ عَلَى أَيُّوبَ مِنْ كُتُبِ أَبِي قِلاَبَةَ، مِنْهُ مَا حَدَّثَ بِهِ وَمِنْهُ مَا قُرِئَ عَلَيْهِ، وَكَانَ هَذَا فِي الْكِتَابِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ وَأَنَسَ بْنَ النَّضْرِ كَوَيَاهُ، وَكَوَاهُ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِهِ. وَقَالَ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الأَنْصَارِ أَنْ يَرْقُوا مِنَ الْحُمَةِ وَالأُذُنِ. قَالَ أَنَسٌ كُوِيتُ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَىٌّ، وَشَهِدَنِي أَبُو طَلْحَةَ وَأَنَسُ بْنُ النَّضْرِ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَبُو طَلْحَةَ كَوَانِي.
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Anas bin Malik that Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) allowed one of the Ansar families to treat persons who have taken poison and also who are suffering from ear ailment with Ruqya. Hadrat Anas added: I got myself branded cauterized) for pleurisy, when Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) was still alive. Abu Hadrat Talha, Anas bin An-Nadr and Hadrat Zaid bin Thabit witnessed that, and it was Abu Hadrat Talha who branded (cauterized) me
اردو ترجمہ
ہم سے عارم نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، کہا کہ ایوب کو ابوقلابہ کی کتابوں سے پڑھ کر سنایا گیا، کچھ انہوں نے خود بیان کیا اور کچھ انہیں پڑھ کر سنایا گیا، اور یہ حدیث کتاب میں تھی، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت انس بن نضر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں داغا اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ہاتھ سے داغا۔ اور عباد بن منصور نے ایوب سے، انہوں نے ابوقلابہ سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کے ایک گھرانے کو زہریلے جانوروں اور کان کی بیماری کا دم کرنے کی اجازت دی۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ذات الجنب (پسلی کے درد) کی وجہ سے مجھے داغا گیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم زندہ تھے، اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت انس بن نضر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت موجود تھے اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے داغا۔
