عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ فَقَالَ لَهَا " لَعَلَّكِ أَرَدْتِ الْحَجَّ ". قَالَتْ وَاللَّهِ لاَ أَجِدُنِي إِلاَّ وَجِعَةً. فَقَالَ لَهَا " حُجِّي وَاشْتَرِطِي، قُولِي اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي ". وَكَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ.
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat `Hadrat Aisha that Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) entered upon Dubaa bint Az-Zubair and said to her, "Do you have a desire to perform the Hajj?" She replied, "By Allah, I feel sick." He said to her, "Intend to perform Hajj and stipulate something by saying, 'O Allah, I will finish my Ihram at any place where You stop me (i.e. I am unable to go further)." She was the wife of Al-Miqdad bin Al-Aswad
اردو ترجمہ
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ضباعہ بنت حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس گئے ( یہ حضرت زبیر عبدالمطلب کے بیٹے اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے چچا تھے ) اور ان سے فرمایا شاید تمہارا ارادہ حج کا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میں تو اپنے آپ کو بیمار پاتی ہوں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ پھر بھی حج کا احرام باندھ لے۔ البتہ شرط لگا لینا اور یہ کہہ لینا کہ اے اللہ! میں اس وقت حلال ہو جاؤں گی جب تو مجھے ( مرض کی وجہ سے ) روک لے گا۔ اور ( ضباعہ بنت حضرت زبیر قریشی رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) مقداد بن اسود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں تھیں۔
