عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ {تَرْمِي بِشَرَرٍ} كُنَّا نَعْمِدُ إِلَى الْخَشَبَةِ ثَلاَثَةَ أَذْرُعٍ وَفَوْقَ ذَلِكَ، فَنَرْفَعُهُ لِلشِّتَاءِ فَنُسَمِّيهِ الْقَصَرَ. {كَأَنَّهُ جِمَالاَتٌ صُفْرٌ} حِبَالُ السُّفْنِ تُجْمَعُ حَتَّى تَكُونَ كَأَوْسَاطِ الرِّجَالِ.
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Ibn 'Abbas that (regarding) the explanation of "... It throws sparks as Al-Qasr ..." (V. 77:32): We used to collect logs of wood, three cubits long or longer, to store for heating purposes in winter, and we used to call it Al- Qasr, it also means a castle or a fort. "As if they were Jimalatun Sufr (yellow camels or bundles of ropes)" (V.77:33): means the ropes of a ship which are made in bundles till it become as wide as men's waists
اردو ترجمہ
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں سفیان نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے سنا، آیت «ترمي بشرر كالقصر» کے متعلق۔ آپ نے فرمایا کہ ہم تین ہاتھ یا اس سے بھی لمبی لکڑیاں اٹھا کر جاڑوں کے لیے رکھ لیتے تھے۔ ایسی لکڑیوں کو ہم «قصر.» کہتے تھے، «كأنه جمالات صفر» سے مراد کشتی کی رسیاں ہیں جو جوڑ کر رکھی جائیں، وہ آدمی کی کمر برابر موٹی ہو جائیں۔
