عربی (اصل)
وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَزَلَ عِنْدَ سَرَحَاتٍ عَنْ يَسَارِ الطَّرِيقِ، فِي مَسِيلٍ دُونَ هَرْشَى، ذَلِكَ الْمَسِيلُ لاَصِقٌ بِكُرَاعِ هَرْشَى، بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطَّرِيقِ قَرِيبٌ مِنْ غَلْوَةٍ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّي إِلَى سَرْحَةٍ، هِيَ أَقْرَبُ السَّرَحَاتِ إِلَى الطَّرِيقِ وَهْىَ أَطْوَلُهُنَّ.
انگریزی ترجمہ
And Hadrat 'Abdullah bin 'Umar (may Allah be well pleased with them both) narrated (to Nafi') that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) would alight near some spreading trees (sarhat) to the left of the road in a valley before Harsha. The valley is adjacent to an edge of Harsha, about an arrow-shot from the main road. Hadrat ' Abdullah (may Allah be well pleased with him) would pray facing the tree that was nearest to the road and the tallest among them.
اردو ترجمہ
اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے (نافع سے) بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہرشی پہاڑ کے قریب نشیب میں راستے کے بائیں جانب کچھ گھنے درختوں (سرحات) کے پاس قیام فرماتے تھے۔ یہ ڈھلوان جگہ ہرشی کے ایک کنارے سے ملی ہوئی ہے اور عام راستے سے تیر کی مار کا فاصلہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اس درخت کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے جو ان تمام درختوں میں سے راستے کے سب سے قریب اور سب سے اونچا تھا۔
