عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،. وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ وُهَيْبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَهْوَ فِي قُبَّةٍ يَوْمَ بَدْرٍ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ، اللَّهُمَّ إِنْ تَشَأْ لاَ تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ ". فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِهِ فَقَالَ حَسْبُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلْحَحْتَ عَلَى رَبِّكَ. وَهْوَ يَثِبُ فِي الدِّرْعِ، فَخَرَجَ وَهْوَ يَقُولُ " {سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ}."
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Ibn `Abbas that Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) while in a tent on the day of the Battle of Badr, said, "O Allah! I request you (to fulfill) Your promise and contract! O Allah! If You wish that you will not be worshipped henceforth.." On that Hadrat Abu Bakr held the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) by the hand and said, "That is enough, O Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) You have appealed to your Lord too pressingly," while the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was putting on his armor. So Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) went out, reciting Their multitude will be put to flight, and they will show their backs
اردو ترجمہ
ہم سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے (دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن یحییٰ ذہلی نے بیان کیا، کہا ہم سے عفان بن مسلم نے بیان کیا، ان سے وہیب نے کہا ہم سے خالد حذاء نے ان سے عکرمہ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جبکہ آپ بدر کی لڑائی کے دن ایک خیمے میں تھے اور یہ دعا کر رہے تھے کہ اے اللہ! میں تجھے تیرا عہد اور وعدہ نصرت یاد دلاتا ہوں۔ اے اللہ! تیری مرضی ہے اگر تو چاہے ( ان تھوڑے سے مسلمانوں کو بھی ہلاک کر دے ) پھر آج کے بعد تیری عبادت باقی نہیں رہے گی۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور عرض کیا: بس یا رسول اللہ! آپ نے اپنے رب سے بہت ہی الحاح و زاری سے دعا کر لی ہے۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم زرہ پہنے ہوئے چل پھر رہے تھے اور آپ خیمہ سے نکلے تو زبان مبارک پر یہ آیت تھی «سيهزم الجمع ويولون الدبر» ”سو عنقریب ( کافروں کی ) جماعت شکست کھائے گی اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔“
