عربی (اصل)
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ دَخَلَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ عَلَى عَائِشَةَ فَشَبَّبَ وَقَالَ حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيبَةٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ قَالَتْ لَسْتَ كَذَاكَ. قُلْتُ تَدَعِينَ مِثْلَ هَذَا يَدْخُلُ عَلَيْكِ وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ {وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ} فَقَالَتْ وَأَىُّ عَذَابٍ أَشَدُّ مِنَ الْعَمَى وَقَالَتْ وَقَدْ كَانَ يَرُدُّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Masruq that Hassan came to Hadrat Aisha and said the following poetic Verse: 'A chaste pious woman who arouses no suspicion. She never talks against chaste heedless women behind their backs.' `Hadrat Aisha said, "But you are not," I said (to `Hadrat Aisha), "Why do you allow such a person to enter upon you after Allah has revealed: "...and as for him among them who had the greater share therein'?" (24.11) She said, "What punishment is worse than blindness?" She added, "And he used to defend Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) against the pagans (in his poetry)
اردو ترجمہ
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابوالضحیٰ نے اور ان سے مسروق نے بیان کیا، کہ حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آئے اور یہ شعر پڑھا۔ عفیفہ اور بڑی عقلمند ہیں، ان کے متعلق کسی کو شبہ بھی نہیں گزر سکتا۔ آپ غافل اور پاک دامن عورتوں کا گوشت کھانے سے کامل پرہیز کرتی ہیں۔“ اس پر حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ لیکن اے حسان! تو ایسا نہیں ہے۔ بعد میں، میں نے عرض کیا آپ ایسے شخص کو اپنے پاس آنے دیتی ہیں؟ اللہ تعالیٰ تو یہ آیت بھی نازل کر چکا ہے «والذي تولى كبره منهم» کہ ”اور جس نے ان میں سے سب سے بڑا حصہ لیا۔“ الخ۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ نابینا ہو جانے سے بڑھ کر اور کیا عذاب ہو گا، پھر انہوں نے کہا کہ حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے کفار کی ہجو کا جواب دیا کرتے تھے ( کیا یہ شرف ان کے لیے کم ہے ) ۔
