عربی (اصل)
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ هَيْتَ لَكَ قَالَ وَإِنَّمَا نَقْرَؤُهَا كَمَا عُلِّمْنَاهَا {مَثْوَاهُ} مُقَامُهُ {أَلْفَيَا} وَجَدَا {أَلْفَوْا آبَاءَهُمْ} {أَلْفَيْنَا} وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ {بَلْ عَجِبْتَ وَيَسْخَرُونَ}
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Abu Wail that `Abdullah bin Mas`ud recited "Haita laka (Come you)," and added, "We recite it as we were taught it
اردو ترجمہ
مجھ سے احمد بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن عمر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے حضرت ابووائل نے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے «هيت لك» پڑھا اور کہا کہ جس طرح ہمیں یہ لفظ سکھایا گیا ہے۔ اسی طرح ہم پڑھتے ہیں۔ «مثواه» یعنی اس کا ٹھکانا، درجہ۔ «ألفيا» یعنی پایا اسی سے ہے۔ «ألفوا آباءهم» اور «ألفينا» ( دوسری آیتوں میں ) اور حضرت ابن مسعود سے ( سورۃ الصافات ) میں «بل عجبت ويسخرون» منقول ہے۔
