صحیح بخاریProphetic Commentary on the Qur'an (Tafseer of the Prophet (pbuh))#4647صحیح
عربی (اصل)
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، سَمِعْتُ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ أُصَلِّي فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَعَانِي فَلَمْ آتِهِ حَتَّى صَلَّيْتُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقَالَ " مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَ أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ} ثُمَّ قَالَ لأُعَلِّمَنَّكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ ". فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيَخْرُجَ فَذَكَرْتُ لَهُ. وَقَالَ مُعَاذٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبٍ، سَمِعَ حَفْصًا، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ، رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا، وَقَالَ هِيَ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} السَّبْعُ الْمَثَانِي.
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Abu Sa`id bin Al-Mu'alla that while I was praying, Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) passed me and called me, but I did not go to him until I had finished the prayer. Then I went to him, and he said, "What prevented you from coming to me? Didn't Allah say:-- "O you who believe! Answer the call of Allah (by obeying Him) and His Messenger (blessings and peace of Allah be upon him)when He calls you?" He then said, "I will inform you of the greatest Sura in the Qur'an before I leave (the mosque)." When Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) got ready to leave (the mosque), I reminded him. He said, "It is: 'Praise be to Allah, the Lord of the worlds.' (i.e. Surat-al-Fatiha) As-sab'a Al-Mathani (the seven repeatedly recited Verses)
اردو ترجمہ
مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو روح بن عبادہ نے خبر دی، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے انہوں نے حفص بن عاصم سے سنا اور ان سے حضرت ابوسعید بن معلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پکارا۔ میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں نہ پہنچ سکا بلکہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ آنے میں دیر کیوں ہوئی؟ کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم نہیں دیا ہے «يا أيها الذين آمنوا استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم» کہ ”اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہو، جبکہ وہ ( یعنی رسول ) تم کو بلائیں۔“ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مسجد سے نکلنے سے پہلے میں تمہیں قرآن کی عظیم ترین سورۃ سکھاؤں گا۔ تھوڑی دیر بعد آپ باہر تشریف لے جانے لگے تو میں نے آپ کو یاد دلایا۔ اور حضرت معاذ بن حضرت معاذ عنبری نے اس حدیث کو یوں روایت کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے خبیب نے، انہوں نے حفص سے سنا اور انہوں نے حضرت ابوسعید بن معلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی تھے، سنا اور انہوں نے بیان کیا وہ ( سورۃ فاتحه ) «الحمد لله رب العالمين» ہے جس میں سات آیتیں ہیں جو ہر نماز میں مکرر پڑھی جاتی ہیں۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (10)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحیح بخاری
مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أُصَلِّي فَدَعَانِي فَلَمْ آتِهِ حَتَّى صَلَّيْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ فَقَالَ " مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَ ". فَقُلْتُ كُنْتُ أُصَلِّي. فَقَالَ " أَلَمْ يَقُلِ اللَّه…
صحیح بخاری
كُنْتُ أُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ أُجِبْهُ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي. فَقَالَ " أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ {اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُول…
صحیح بخاری
كُنْتُ أُصَلِّي فَدَعَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ أُجِبْهُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي. قَالَ " أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ {اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ} ثُمَّ…
سنن ابو داؤد
سَمِعْتُ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَدَعَاهُ قَالَ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ قَالَ فَقَالَ " مَا مَنَعَكَ أَنْ…
سنن نسائی
سَمِعْتُ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَدَعَاهُ - قَالَ - فَصَلَّيْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقَالَ " مَا مَنَعَكَ أَنْ ت…
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، سَمِعْتُ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ أُصَلِّي فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَعَانِي فَلَمْ آتِهِ حَتَّى صَلَّيْتُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقَالَ " مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَ أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ} ثُمَّ قَالَ لأُعَلِّمَنَّكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ ". فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيَخْرُجَ فَذَكَرْتُ لَهُ. وَقَالَ مُعَاذٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبٍ، سَمِعَ حَفْصًا، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ، رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا، وَقَالَ هِيَ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} السَّبْعُ الْمَثَانِي.
It is narrated by Hadrat Abu Sa`id bin Al-Mu'alla that while I was praying, Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) passed me and called me, but I did not go to him until I had finished the prayer. Then I went to him, and he said, "What prevented you from coming to me? Didn't Allah say:-- "O you who believe! Answer the call of Allah (by obeying Him) and His Messenger (blessings and peace of Allah be upon him)when He calls you?" He then said, "I will inform you of the greatest Sura in the Qur'an before I leave (the mosque)." When Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) got ready to leave (the mosque), I reminded him. He said, "It is: 'Praise be to Allah, the Lord of the worlds.' (i.e. Surat-al-Fatiha) As-sab'a Al-Mathani (the seven repeatedly recited Verses)
مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو روح بن عبادہ نے خبر دی، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے انہوں نے حفص بن عاصم سے سنا اور ان سے حضرت ابوسعید بن معلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پکارا۔ میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں نہ پہنچ سکا بلکہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ آنے میں دیر کیوں ہوئی؟ کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم نہیں دیا ہے «يا أيها الذين آمنوا استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم» کہ ”اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہو، جبکہ وہ ( یعنی رسول ) تم کو بلائیں۔“ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مسجد سے نکلنے سے پہلے میں تمہیں قرآن کی عظیم ترین سورۃ سکھاؤں گا۔ تھوڑی دیر بعد آپ باہر تشریف لے جانے لگے تو میں نے آپ کو یاد دلایا۔ اور حضرت معاذ بن حضرت معاذ عنبری نے اس حدیث کو یوں روایت کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے خبیب نے، انہوں نے حفص سے سنا اور انہوں نے حضرت ابوسعید بن معلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی تھے، سنا اور انہوں نے بیان کیا وہ ( سورۃ فاتحه ) «الحمد لله رب العالمين» ہے جس میں سات آیتیں ہیں جو ہر نماز میں مکرر پڑھی جاتی ہیں۔