عربی (اصل)
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ، كَانَتَا تَخْرِزَانِ فِي بَيْتٍ ـ أَوْ فِي الْحُجْرَةِ ـ فَخَرَجَتْ إِحْدَاهُمَا وَقَدْ أُنْفِذَ بِإِشْفًى فِي كَفِّهَا، فَادَّعَتْ عَلَى الأُخْرَى، فَرُفِعَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ لَذَهَبَ دِمَاءُ قَوْمٍ وَأَمْوَالُهُمْ ". ذَكِّرُوهَا بِاللَّهِ وَاقْرَءُوا عَلَيْهَا {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ}. فَذَكَّرُوهَا فَاعْتَرَفَتْ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ ".
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Ibn Abu Mulaika that Two women were stitching shoes in a house or a room. Then one of them came out with an awl driven into her hand, and she sued the other for it. The case was brought before Hadrat Ibn `Abbas, Hadrat Ibn `Abbas said, "Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'If people were to be given what they claim (without proving their claim) the life and property of the nation would be lost.' Will you remind her (i.e. the defendant), of Allah and recite before her:--"Verily! Those who purchase a small gain at the cost of Allah's Covenant and their oaths..."(3.77) So they reminded her and she confessed. Hadrat Ibn `Abbas then said, "the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'The oath is to be taken by the defendant (in the absence of any proof against him)
اردو ترجمہ
ہم سے نصر بن علی بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن داؤد نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ دو عورتیں کسی گھر یا حجرہ میں بیٹھ کر موزے بنایا کرتی تھیں۔ ان میں سے ایک عورت باہر نکلی اس کے ہاتھ میں موزے سینے کا سوا چبھو دیا گیا تھا۔ اس نے دوسری عورت پر دعویٰ کیا۔ یہ مقدمہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس آیا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ اگر صرف دعویٰ کی وجہ سے لوگوں کا مطالبہ مان لیا جانے لگے تو بہت سوں کا خون اور مال برباد ہو جائے گا۔ جب گواہ نہیں ہے تو دوسری عورت کو جس پر یہ الزام ہے، اللہ سے ڈراؤ اور اس کے سامنے یہ آیت پڑھو «إن الذين يشترون بعهد الله» چنانچہ جب لوگوں نے اسے اللہ سے ڈرایا تو اس نے اقرار کر لیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے، قسم مدعیٰ علیہ پر ہے۔ اگر وہ جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال ہڑپ کرے گا تو اس کو اس وعید کا مصداق قرار دیا جائے گا جو آیت میں بیان کی گئی ہے۔
