It is narrated by Hadrat Nafi` that during the affliction of Ibn Az-Zubair, two men came to Hadrat Ibn `Umar and said, "The people are lost, and you are the son of `Umar, and the companion of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), so what forbids you from coming out?" He said, "What forbids me is that Allah has prohibited the shedding of my brother's blood." They both said, "Didn't Allah say, 'And fight them until there is no more affliction?" He said "We fought until there was no more affliction and the worship is for Allah (Alone while you want to fight until there is affliction and until the worship becomes for other than Allah." Narrated Nafi` (through another group of sub-narrators): A man came to Hadrat Ibn `Umar and said, "O Abu `Hadrat Abdur Rahman! What made you perform Hajj in one year and Umra in another year and leave the Jihad for Allah' Cause though you know how much Allah recommends it?" Hadrat Ibn `Umar replied, "O son of my brother! Islam is founded on five principles, i.e. believe in Allah and His Messenger (blessings and peace of Allah be upon him), the five compulsory prayers, the fasting of the month of Ramadan, the payment of Zakat, and the Hajj to the House (of Allah)." The man said, "O Abu `Hadrat Abdur Rahman! Won't you listen to what Allah has mentioned in His Book: 'If two groups of believers fight each other, then make peace between them, but if one of them transgresses beyond bounds against the other, then you all fight against the one that transgresses. (49.9) and:--"And fight them till there is no more affliction (i.e. no more worshiping of others along with Allah)." Hadrat Ibn `Umar said, "We did it, during the lifetime of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) when Islam had only a few followers. A man would be put to trial because of his religion; he would either be killed or tortured. But when the Muslims increased, there was no more afflictions or oppressions." The man said, "What is your opinion about `Hadrat Uthman and Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance)?" Hadrat Ibn `Umar said, "As for `Hadrat Uthman, it seems that Allah has forgiven him, but you people dislike that he should be forgiven. And as for Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance), he is the cousin of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) and his son-in-law." Then he pointed with his hand and said, "That is his house which you see
اردو ترجمہ
حضرت نافع سے روایت ہے کہ ابن حضرت زبیر کے فتنے کے زمانے میں دو آدمی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس آئے اور کہا کہ لوگ تباہ ہو رہے ہیں اور آپ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرزند ہیں اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی ہیں، پھر آپ کو نکلنے سے کیا چیز روکتی ہے؟ انہوں نے فرمایا مجھے یہ بات روکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے بھائی کا خون حرام فرمایا ہے۔ ان دونوں نے کہا کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا {وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ} (اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے)؟ انہوں نے فرمایا ہم نے اس وقت تک لڑائی کی یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہا اور دین صرف اللہ کا ہو گیا، اور تم لوگ چاہتے ہو کہ لڑو یہاں تک کہ فتنہ پیدا ہو اور دین غیر اللہ کے لیے ہو جائے۔ اور (دوسری سند سے) حضرت نافع سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس آیا اور کہا اے ابو عبدالرحمٰن! آپ کو کس چیز نے اس بات پر آمادہ کیا کہ ایک سال حج کرتے ہیں اور ایک سال عمرہ کرتے ہیں اور اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد چھوڑ دیتے ہیں، حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی کتنی ترغیب دلائی ہے؟ انہوں نے فرمایا بھتیجے! اسلام پانچ چیزوں پر قائم کیا گیا ہے: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانا، پانچ وقت کی نمازیں، رمضان کے روزے، زکوٰۃ ادا کرنا، اور بیت اللہ کا حج کرنا۔ اس نے کہا اے ابو عبدالرحمٰن! کیا آپ نہیں سنتے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے {وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا} (اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو ان میں صلح کراؤ) {قَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ} (ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے)؟ انہوں نے فرمایا ہم نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایسا کیا جب اسلام کے ماننے والے تھوڑے تھے، آدمی کو اس کے دین کی وجہ سے فتنے میں ڈالا جاتا تھا، یا تو اسے قتل کر دیتے یا اسے عذاب دیتے، یہاں تک کہ اسلام پھیل گیا اور کوئی فتنہ نہ رہا۔ اس نے کہا حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں آپ کا کیا قول ہے؟ انہوں نے فرمایا حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تو گویا اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا اور تم لوگوں نے یہ ناپسند کیا کہ انہیں معاف کر دو، اور حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور ان کے داماد ہیں۔ اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کرکے فرمایا یہ ان کا گھر ہے جہاں تم دیکھ رہے ہو۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (4)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحیح بخاری
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَتَاهُ رَجُلاَنِ فِي فِتْنَةِ اب…
صحیح بخاری
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَتَاهُ رَجُلاَنِ فِي فِتْنَةِ اب…
It is narrated by Hadrat Nafi` that during the affliction of Ibn Az-Zubair, two men came to Hadrat Ibn `Umar and said, "The people are lost, and you are the son of `Umar, and the companion of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), so what forbids you from coming out?" He said, "What forbids me is that Allah has prohibited the shedding of my brother's blood." They both said, "Didn't Allah say, 'And fight them until there is no more affliction?" He said "We fought until there was no more affliction and the worship is for Allah (Alone while you want to fight until there is affliction and until the worship becomes for other than Allah." Narrated Nafi` (through another group of sub-narrators): A man came to Hadrat Ibn `Umar and said, "O Abu `Hadrat Abdur Rahman! What made you perform Hajj in one year and Umra in another year and leave the Jihad for Allah' Cause though you know how much Allah recommends it?" Hadrat Ibn `Umar replied, "O son of my brother! Islam is founded on five principles, i.e. believe in Allah and His Messenger (blessings and peace of Allah be upon him), the five compulsory prayers, the fasting of the month of Ramadan, the payment of Zakat, and the Hajj to the House (of Allah)." The man said, "O Abu `Hadrat Abdur Rahman! Won't you listen to what Allah has mentioned in His Book: 'If two groups of believers fight each other, then make peace between them, but if one of them transgresses beyond bounds against the other, then you all fight against the one that transgresses. (49.9) and:--"And fight them till there is no more affliction (i.e. no more worshiping of others along with Allah)." Hadrat Ibn `Umar said, "We did it, during the lifetime of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) when Islam had only a few followers. A man would be put to trial because of his religion; he would either be killed or tortured. But when the Muslims increased, there was no more afflictions or oppressions." The man said, "What is your opinion about `Hadrat Uthman and Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance)?" Hadrat Ibn `Umar said, "As for `Hadrat Uthman, it seems that Allah has forgiven him, but you people dislike that he should be forgiven. And as for Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance), he is the cousin of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) and his son-in-law." Then he pointed with his hand and said, "That is his house which you see
حضرت نافع سے روایت ہے کہ ابن حضرت زبیر کے فتنے کے زمانے میں دو آدمی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس آئے اور کہا کہ لوگ تباہ ہو رہے ہیں اور آپ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرزند ہیں اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی ہیں، پھر آپ کو نکلنے سے کیا چیز روکتی ہے؟ انہوں نے فرمایا مجھے یہ بات روکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے بھائی کا خون حرام فرمایا ہے۔ ان دونوں نے کہا کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا {وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ} (اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے)؟ انہوں نے فرمایا ہم نے اس وقت تک لڑائی کی یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہا اور دین صرف اللہ کا ہو گیا، اور تم لوگ چاہتے ہو کہ لڑو یہاں تک کہ فتنہ پیدا ہو اور دین غیر اللہ کے لیے ہو جائے۔ اور (دوسری سند سے) حضرت نافع سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس آیا اور کہا اے ابو عبدالرحمٰن! آپ کو کس چیز نے اس بات پر آمادہ کیا کہ ایک سال حج کرتے ہیں اور ایک سال عمرہ کرتے ہیں اور اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد چھوڑ دیتے ہیں، حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی کتنی ترغیب دلائی ہے؟ انہوں نے فرمایا بھتیجے! اسلام پانچ چیزوں پر قائم کیا گیا ہے: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانا، پانچ وقت کی نمازیں، رمضان کے روزے، زکوٰۃ ادا کرنا، اور بیت اللہ کا حج کرنا۔ اس نے کہا اے ابو عبدالرحمٰن! کیا آپ نہیں سنتے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے {وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا} (اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو ان میں صلح کراؤ) {قَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ} (ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے)؟ انہوں نے فرمایا ہم نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایسا کیا جب اسلام کے ماننے والے تھوڑے تھے، آدمی کو اس کے دین کی وجہ سے فتنے میں ڈالا جاتا تھا، یا تو اسے قتل کر دیتے یا اسے عذاب دیتے، یہاں تک کہ اسلام پھیل گیا اور کوئی فتنہ نہ رہا۔ اس نے کہا حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں آپ کا کیا قول ہے؟ انہوں نے فرمایا حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تو گویا اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا اور تم لوگوں نے یہ ناپسند کیا کہ انہیں معاف کر دو، اور حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور ان کے داماد ہیں۔ اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کرکے فرمایا یہ ان کا گھر ہے جہاں تم دیکھ رہے ہو۔