عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أُسَامَةَ ـ فَقَالُوا فِيهِ ـ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " قَدْ بَلَغَنِي أَنَّكُمْ قُلْتُمْ فِي أُسَامَةَ، وَإِنَّهُ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَىَّ ".
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Salim from his father (Hadrat Abdullah bin Umar, may Allah be well pleased with them both) that the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) appointed Hadrat Usama bin Zaid (may Allah be well pleased with them both) as the commander of the troops. The Muslims spoke about Hadrat Usama (unfavorably). The Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'I have been informed that you spoke about Hadrat Usama's leadership. Before this, you used to criticize the leadership of his father (Hadrat Zaid bin Haritha, may Allah be well pleased with him). By Allah, he was worthy of the leadership and was the most beloved of all people to me, and after him, this one (Hadrat Usama) is the most beloved of all people to me.'
اردو ترجمہ
حضرت سالم اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو لشکر کا سپہ سالار مقرر فرمایا تو لوگوں نے ان کی سرداری پر اعتراض کیا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے خبر ملی ہے کہ تم نے اسامہ کی سرداری پر اعتراض کیا ہے۔ اس سے پہلے تم ان کے باپ (زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی سرداری پر بھی اعتراض کرتے تھے۔ اللہ کی قسم! وہ سرداری کے لائق تھے اور مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب تھے، اور ان کے بعد یہ (اسامہ) مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہیں۔
