عربی (اصل)
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ ـ أَوْ مُحَمَّدُ ـ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغُدَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وَإِذَا أُنَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ يُعَظِّمُونَ عَاشُورَاءَ وَيَصُومُونَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " نَحْنُ أَحَقُّ بِصَوْمِهِ ". فَأَمَرَ بِصَوْمِهِ.
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Abu Musa that when the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) arrived at Medina, he noticed that some people among the Jews used to respect Ashura' (i.e. 10th of Muharram) and fast on it. the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) then stated, "We have more right to observe fast on this day." and ordered that fasting should be observed on it
اردو ترجمہ
مجھ سے احمد یا محمد بن عبیداللہ غدانی نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن اسامہ نے بیان کیا کہ انہیں ابو عمیس نے خبر دی، انہیں قیس بن مسلم نے، انہیں طارق بن شہاب نے اور ان سے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ یہودی عاشوراء کے دن کی تعظیم کرتے ہیں اور اس دن روزہ رکھتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہم اس دن روزہ رکھنے کے زیادہ حقدار ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن کے روزے کا حکم دیا۔
